بارسی ٹاکلی میں مثالی نکاح، سادگی و سنتِ نبویؐ کی روشن مثال ریاست بھر میں ہورہی ستائش، نوجوان نسل کے لیے
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 09, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) 3 جون 2026 کو بارسی ٹاکلی میں منعقد ہونے والی ایک سادہ مگر بابرکت نکاح کی تقریب نے عوامی و سماجی حلقوں میں خوشگوار بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مثالی نکاح کی ستائش نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ریاست بھر میں کی جارہی ہے، جبکہ سوشل میڈیا خصوصاً واٹس ایپ پر اس حوالے سے ایک تحریر دن بھر گردش کرتی رہی، جس میں اس نکاح کو موجودہ دور کے لیے ایک روشن مثال قرار دیا گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ نکاح جماعت اسلامی بارسی ٹاکلی کے فعال رکن جناب احسان اللہ خان صاحب کی صاحبزادی اور جناب ذکی احمد صاحب (وحدت اسلامی، امراوتی) کے فرزند کے درمیان انجام پایا۔ اس نکاح کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی بے مثال سادگی، دینی ماحول اور غیر ضروری رسم و رواج سے مکمل اجتناب تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ دولہا کی جانب سے صرف چند افراد، جن میں دو خواتین اور خود دولہا سمیت چار مرد حضرات شامل تھے، عصر کی نماز سے قبل بارسی ٹاکلی پہنچے۔ نمازِ عصر کے بعد مسجد میں مختصر اعلان کیا گیا کہ احسان اللہ خان صاحب کی صاحبزادی کا عقد انجام پانے والا ہے، جس پر مسجد میں موجود افراد ہی اس مبارک مجلس کے گواہ بنے۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد محسن صاحب نے تقویٰ، سادگی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح کی اہمیت پر مختصر مگر انتہائی مؤثر خطاب کیا۔ نکاح کی تمام کارروائی اسلامی اصولوں کے مطابق نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ مکمل ہوئی۔ مہر نقد ادا کیا گیا جبکہ حاضرین کی تواضع صرف شربت سے کی گئی۔ قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ اس نکاح میں نہ جہیز کی کوئی شرط تھی، نہ فضول رسموں کا بوجھ اور نہ ہی نمود و نمائش کی کوئی کوشش۔ عقد کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد دلہن کی رخصتی عمل میں آئی اور ایک نئی زندگی کا آغاز اللہ کے نام سے انجام پایا۔ سماجی اور دینی حلقوں کی جانب سے اس نکاح کو موجودہ دور میں ایک مثالی قدم قرار دیا جارہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ آج شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول اخراجات، دکھاوا اور غیر ضروری رسمیں نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں بارسی ٹاکلی کا یہ نکاح ایک عملی پیغام بن کر سامنے آیا ہے کہ اگر اخلاص، تقویٰ اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھا جائے تو نکاح نہایت آسان، بابرکت اور باوقار انداز میں انجام پاسکتا ہے۔ معاشرتی ماہرین کے مطابق اس طرح کے سادہ نکاح نہ صرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں بلکہ یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شادی کی مشکلات، جہیز جیسی لعنت اور بے جا اخراجات کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نوجوان نسل کے لیے یہ ایک مثبت مثال ہے کہ خوشحال ازدواجی زندگی کے لیے نمود و نمائش نہیں بلکہ باہمی اخلاص، دینی اقدار اور سادگی اصل بنیاد ہیں۔ بارسی ٹاکلی کا یہ مثالی نکاح اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ بعض اوقات ایک خاموش اور سادہ تقریب وہ پیغام دے جاتی ہے جو طویل تقاریر اور واعظ بھی نہیں دے پاتے۔ یقیناً ایسے روشن نمونے معاشرے میں آسان نکاح اور سنتِ نبوی ﷺ کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔