بالاپور ، علی پبلک اسکول میں اسکول ہیڈ الیکشن کی انتخابی مہم کا آغاز طلبہ میں قیادت، جمہوری شعور اور ذمہ داری کے فروغ کی منفرد کوشش
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 18, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) بالاپور کے علی پبلک اسکول میں تعلیمی سال 2026-27 کے لیے اسکول ہیڈ الیکشن کی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔
اس منفرد اقدام کا مقصد طلبہ کو جمہوری نظام سے عملی طور پر روشناس کرانے کے ساتھ ان میں قیادت، خود اعتمادی، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیت اور ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ انتخابی مہم کا آغاز جماعت ششم کے امیدوار طلبہ و طالبات کی تقاریر سے ہوا، جنہوں نے اپنے انتخابی منشور، آئندہ منصوبوں اور اسکول کی بہتری کے لیے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے ساتھی طلبہ سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ اس انتخابی عمل کے ذریعے ہیڈ بوائے، ہیڈ گرل، لینگویج منسٹر اور ڈسپلن منسٹر کا انتخاب کیا جائے گا۔ انتخابی کارروائی کو شفاف، منصفانہ اور منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے کلچرل کمیٹی کی جانب سے جناب شہباز پٹھان کو الیکشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو پورے انتخابی عمل کی نگرانی کریں گے۔ ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی 25 جولائی 2026 کو ہوگی، جس کے بعد نتائج کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر منعقدہ افتتاحی تقریب میں اسکول کے سیکریٹری ڈاکٹر زبیر ندیم، محترمہ عنبر کاظم اور ہیڈ مسٹریس محترمہ رضوانہ پروین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ مقررین نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ دیانت داری، نظم و ضبط اور جمہوری اقدار کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں۔ تقریب کے دوران اولمپیاڈ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اور جون میں منعقدہ فاؤنڈیشن بیچ کے کامیاب طلبہ میں اسناد اور انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ مہمانوں نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی محنت اور تعلیمی کارکردگی کو سراہا۔ اس موقع پر ڈاکٹر زبیر ندیم نے کہا کہ اسکول ہیڈ الیکشن کا مقصد طلبہ کو عوامی خطاب، مثبت انتخابی مہم، ووٹنگ کے طریقۂ کار اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کا عملی تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں باشعور، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔ پروگرام کی نظامت عفت جمال نے انجام دی جبکہ شہزین مہرا نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ انتخابی مہم کے آغاز سے اسکول میں جوش و خروش اور صحت مند مسابقت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے، جبکہ طلبہ، اساتذہ اور والدین اب 25 جولائی کو ہونے والی ووٹنگ اور نئے منتخب طلبہ رہنماؤں کے اعلان کے منتظر ہیں۔