کھام گاؤں (واثق نوید) ریاست مہاراشٹر میں اردو زبان و ادب کا حال نہ صرف بہتر ہے بلکہ یہاں اردو اسکولوں کی تعداد 'اردو تعلیم سے دلچسپی اور اردو شعر و ادب کی سرگرمیوں کی گہما گہمی دیکھ کر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہاں اردو کا مستقبل بھی خوش آئند ہے _
اس بات کا اظہار پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کیا_ وہ اکولہ میں منعقد جشن یحییٰ نشیط کا صدارتی خطبہ پیش کر رہے تھے _6 اکتوبر 2024 بروز اتوار کو اکولہ کے کوہ نور فنکشن ہال میں اردو لرنرز گروپ مہاراشٹر نے وابستگان بال بھارتی اور مجلسِ استقبالیہ اکولہ کے اشتراک سے عظیم الشان پیمانے پر جشن یحییٰ نشیط کا اہتمام کیا تھا _ جشن میں ملک بھر سے نامور اہل قلم اور اردو زبان کے سیکڑوں اسکالرز نے شرکت کی تھی_
جشنِ یحییٰ نشیط کی یک روزہ تقریبات کا آغاز مشہور شاعر نعیم فراز نے حمد پیش کر کے کیا _ اس کے بعد انس نبیل خان نے نعت پاک پیش کی _مجلس استقبالیہ کے صدر اور معروف ادیب ڈاکٹر ناصر الدین انصار نے جشن کا خطبہ استقبالیہ پیش کیا _انہوں نے جشن میں تشریف لائے تمام ادباو شعراء ' اسکالرز اور حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے یہاں ادیب کی زندگی میں اس کی قدر افزائی نہیں کی جاتی بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے تعزیتی نشستوں کے اہتمام کا سلسلہ چل نکلا ہے _
آج جشنِ ڈاکٹر یحییٰ نشیط کی یہ تقریب ہماری اس روش اور اس حصار کو توڑنے کی کوشش ہے _ ہم چاہتے ہیں کہ قلمکار کو اس کی زندگی میں یہ حق ملناچاہیے _ ہم مستقبل میں بھی اسی طرح ہمارے درمیان موجود قلم کاروں کا جشن منا کر انہیں اپنی زندگی میں وہ خوشی مہیا کریں گے _
اس کے بعد خان نوید الحق (اردو افسر بال بھارتی پونہ) نے ڈاکٹر نشیط کا تعارف پیش کیا _ اس موقع پر صاحب ِجشن ڈاکٹر یحییٰ نشیط کی شخصیت اور فن پر ڈاکٹر ناصر الدین انصار اور خان نوید الحق کے ذریعے مرتب کردہ کتاب' مرد خوب آگاہ' رونمائی کی تقریب کی شاہد لطیف مدیراعلی انقلاب کے ہاتھوں انجام پذیر ہوئی _
بعد ازاں مجلس استقبالیہ کی طرف سے صدرِ جشن پروفیسر اخترالواسع کو نشان امتیاز ایوارڈ اور صاحبِ جشن ڈاکٹر یحییٰ نشیط کو کمال فن ایوارڈ تفویض کیے گئے _ اس دوران خان نوید الحق انعام الحق نے اپنے رفقاء کی جانب سے نہایت خوبصورت انداز میں صاحبِ جشن کی خدمت میں کیسہ زر پیش کیا _
جشنِ ڈاکٹر یحییٰ نشیط کی اس یادگار محفل میں جناب سلیم شہزاد' پروفیسر نعمان خان' ڈاکٹر شرف الدین ساحل' ڈاکٹر محمد اسد اللہ' مفتی اشفاق احمد قاسمی' ڈاکٹر غلام نبی مومن' مدیر اعلی انقلاب شاہد لطیف 'خان نوید الحق' اعظمی محمد یاسین نے صاحبِ جشن کی شخصیت اور فن سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا_
جشن کی اس تقریب کو مزید خوبصورت 'یادگاراور حافظہ نشین بنانے کے لیے مجلسِ استقبالیہ نے کئی ثقافتی تقاریب کا بھی انعقاد کیا تھا _ جس میں ڈاکٹر وسیم خان کی جانب سے پیش کردہ اردو کے قدیم مخطوطات اور کتب کی نمائش نیز عہد تغلق 'عہد مغلیہ' عہد قطب شاہی 'عہد آصف جاہی اور نوابین برار کے سکوں کی نمائش بطور خاص شامل تھی _
دوسری طرف صابر شیخ کے اردو خطاطی اور پینٹنگز کے نمونے بھی اس موقع پر اردو اسکالرز اور شرکاء کی توجہ کا مرکز رہے' ساتھ ہی شام میں مدیراعلی انقلاب شاہد لطیف کی صدارت میں محفل مشاعرہ بھی منعقد ہوئی _ جشن کو کامیاب بنانے کے لیے مفتی اشفاق احمد قاسمی' ڈاکٹر ناصر الدین انصار اور خان نوید الحق کی قیادت میں مجلسِ استقبالیہ کے نعیم فراز 'ڈاکٹر محسن' رحمت اللہ خان' ڈاکٹر ذاکر نعمانی' عرفان ظفر قریشی' ندیم شاد' راجو قریشی' ڈاکٹر وسیم خان 'محمد شکیل' معین گوہر' انس نبیل ' ڈاکٹر عدنان' ڈاکٹر زبیر ندیم اور ان کے رفقاء نے خوب محنت کی _
مختلف نشستوں میں نظامت کے فرائض گل بوٹے ممبئی کے مدیر اعلی فاروق سید' معروف ناظم مشاعرہ ابرار کاشف اور ضمیر احمد ضمیر نے انجام دیے _



