مالیگاؤں ( پریس ریلیز ) ماضی ندیوں کے سیلابی پانیوں میں نہانے والے کئی بچے اور نوجوان موت کا شکار ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ خانقاہ قدیریہ مالیگاؤں کے روح رواں مولانا امتیاز حسین قدیری نے ندیوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہوتے ہی شہری انتظامیہ سے گرنا ندی کے اطراف میں سیکورٹی گارڈ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے.
آپ شہر کے نوجوانوں اور کمسن بچوں سے مودبانہ گزارش کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ مالیگاؤں شہر موسلا دھار بارش سے اب تک محروم رہا ہے لیکن قرب و جوار میں زبردست بارش دکھائی دے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ڈیموں سے زائد پانی گرنا ندی میں مسلسل چھوڑا جارہا ہے. گرنا ندی میں سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے طغیانی آئی ہوئی ہے.
تیراکی کے شوقین کمسن بچوں کے علاوہ ہر عمر کے افراد اپنی تیراکی کا مظاہرہ دکھانے کے لیے جوق در جوق مختلف مقامات پر یوں مجتمع ہورہے ہیں جیسے اگر یہ لوگ سیلابی پانی میں اپنی تیراکی کا مظاہرہ نہ کر پائیں تو یاس و محرومیاں ان کا مقدر رہے گی. ہر برس موسم برشگال میں یہی نظارہ دکھائی دیتا ہے. سیلابی پانی میں نہانے کے شوقین افراد موسم و گرنا ندیوں میں سیلابی پانی کی آمد کے ساتھ ہی مچل جایا کرتے ہیں اور ہر سال درجنوں نوجوان اور کمسن بچے اس سیلابی پانی کی اسطرح بھینٹ چڑھ جاتے ہیں کہ ان کے اہل خانہ روتے بلکتے رہ جاتے ہیں. گزشتہ ہفتہ کے دوران گرنا ندی میں بہنے والے سیلابی پانی نے ابھی تک تو کسی کی جان نہیں لی ہے لیکن نہانے کے شوقین افراد یوں ہی بضد رہے تو وہ دن دور نہیں جب کسی نہ کسی مکان سے جنازہ اٹھ جائے گا.
عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ ایسے سیلابی پانیوں میں مسلم نوجوان ہی لقمہ اجل کا شکار بنتے رہے ہیں. والدین و بلدیہ کے علاوہ فائر بریگیڈ محکمہ اور محکمہ پولیس کی بھی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ ایسے مقامات پر جہاں غسل سیلابی کے آشنا ہونے والوں کی بھیڑ لگتی ہو وہاں انتباہی بورڈ اور اپنے نمائندوں کو اس طرح تعینات کریں کہ صرف کمسن بچوں ہی نہیں بلکہ ہر عمر کے افراد سیلابی پانی میں نہانے سے دور رہیں نیز انھیں زندگی کی قدر و قیمت سے اس طرح آشنا کریں کہ وہ سیلابی پانیوں میں نہانے سے پرہیز کرنے پر آمادہ ہو جائیں.


