کھام گاؤں (واثق نوید) ہمارے ملک ہندوستان میں ہر سال 23 اگست کو ' قومی یومِ خلاء' یعنی نیشنل اسپیس ڈے منایا جاتا ہے ۔ اسی مناسبت سے علاقہ ودربھ کے معروف تعلیمی ادارے غلام نبی آزاد اردو ڈی ایڈ کالج، پوسد میں بھی یومِ خلاء کا انعقاد کیا گیا ۔
اس پروگرام تحت ڈی ایڈ کے سال اول اور سال دوم میں زیر تربیت معلمین و معلمات نے ہندوستان کی خلائی مشن، چندرایان مہم، خلائی سیٹلائٹ اور دیگر خلائی مہمات کی تصویروں پر مشتمل البم تیار کرکے کالج کی سطح پر ان کی نمائش کی ۔ مختلف طلباء نے مختلف عنوانات کے تحت ڈرائنگ کی ۔
کسی نے سیٹلائٹ بنایا تو کسی نے راکٹ بنایا، کسی نے لانچر بنایا کسی نے لانچنگ پیڈ کی تصویر بنائی تو کسی نے سیٹلائٹ بنایا ۔ کسی نے تصویر بنائی تو کسی نے اڑن طشتری کی تصویر بنائی ۔ ان تمام تصویروں کے ذریعے ہندوستان کے قومی خلائی مشن کے تعلق سے بیداری پیدا کی گئی ۔ پروگرام کے اختتامی مرحلے میں کالج کے پرنسپل خان حسنین عاقب نے زیر تربیت معلمین اور معلمات کو مخاطب کرتے ہوئے ہندوستان کے قومی خلائی مشن اور دیگر خلائی مہمات کے بارے میں معلومات فراہم کیں ۔
خان حسنین عاقب نے رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے خلاء میں جانے کی ہمت انسان ہی نے کی ۔ خلاء ہماری کائنات کا ایک اہم حصہ ہے ۔ خلاؤں کو پار کرنے کا کارنامہ انسان کے تجسس نے ہی انجام دیا جس کی بدولت وہ خلاؤں کا سفر کرآیا ۔ ورنہ خلاء کا سفر کرنا محض تخیل اور تصور کی بات تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی اس منزل پر آن پہنچی ہے جہاں خوابوں میں دیکھے جانے والے اور قصے کہانیوں میں پڑھے جانے والے واقعات اب حقیقت میں اتر آئے ہیں ۔
پرانے زمانے کے داستانوں کا اڑن کھٹولا آج کا ہوائی جہاز بن گیا ہے، پرانے زمانے کا جام جمشید آج کے زمانے کا ٹی وی اور موبائل فون بن گیا ہے ۔ ایسی وہ ساری چیزیں اور تصورات جو پرانی نسلوں کے لیے صرف خواب کی باتیں تھیں، اب وہ انسانی دسترس میں آچکی ہیں ۔ اس موقع پر خان حسنین عاقب نے چندرایان مشن کے موقع پر کہی گئی اپنی نظم 'چاند نے اپنی کھڑکی کھولی' بھی پیش کی جسے سن کر زیر تربیت معلمین اور معلمات نے بے ساختہ داد و تحسین سے نوازا ۔
سال اول و دوم کی زیر تربیت معلمات سحر صدف، الفیہ انعم، جوہی چوہان ، راحین فاطمہ ، عائشہ صدیقہ ، شمازیہ ذوفین، صالحہ فردوس وغیرہ پروگرام کے انعقاد میں پیش پیش رہیں ۔
آخر میں سال دوم کے طلباء نے اظہار تشکر کیا جس کے بعد خلائی مہمات سے متعلق یہ معلوماتی تقریب اپنی تکمیل کو پہنچی ۔
