معروف شاعر و صحافی مہتاب قدر کا حیدرآباد میں سانحہ ارتحال
Author -
personحاجی شاھد انجم
ستمبر 25, 2026
0
share
اُردو لیکس ریاض - محمد سیف الدین یہ خبر بڑے دکھ کے ساتھ پڑی جائے گی کہ شاعر، صحافی اور معروف ادبی شخصیت مہتاب قدر جمعہ کی صبح حیدرآباد میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کے سانحہ ارتحال کی خبر نے ہند و پاک کے علاوہ خلیج ممالک کے ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑا دی۔ وہ ایک طویل عرصہ سے جدّہ میں مقیم تھے اور مختصر عرصہ کے لیے اپنے وطنِ عزیر حیدرآباد آئے ہوئے تھے۔ مہتاب قدر نے سعودی عرب، خصوصاً جدہ میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق جدہ کے بانی اور پندرہ روزہ ادبی جریدے ''اردو گلبن'' جدہ کے بانی ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری، صحافت اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے دیارِ غیر میں اردو ادب کی شمع روشن رکھی اور صحرا میں اردو ادب کے پھول کھلانے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔ ان کی دو شعری تخلیقات "چھاؤں صحرا کی"اور "تھوڑی سی آوارگی" شائع ہوکر ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرچکی ہیں۔ وہ جدہ میں ہند و پاک ادبی حلقوں میں یکساں طور پر معروف تھے۔ مہتاب قدر کی رحلت سے اردو ادب بالخصوص سعودی عرب کی ادبی دنیا ایک مخلص شاعر، صحافی اور متحرک شخصیت سے محروم ہوگئی۔ ان کی ادبی خدمات اور تخلیقی سرمایہ عرصہ دراز تک یاد رکھا جائے گا۔ "ہم نے خوشبو کے بند کھول دیے"مہتاب قدر کی یاد میں یہ احساس آج مزید گہرا ہوگیا ہے کہ انسان رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کے الفاظ اور اس کی ادبی خوشبو باقی رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان، احباب اور اہلِ ادب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔