کھام گاؤں نگر پریشد انتخابات: بی جے پی کو واضح اکثریت عوامی ناقدری اور غیر سیاسی فیصلوں نے انیس جمعدار کو باہر کر دیا
Author -
personحاجی شاھد انجم
دسمبر 21, 2025
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید): کھام گاؤں نگر پریشد کے عام انتخابات کا نتیجہ 25 دسمبر کو جاری ہوتے ہی شہر کی سیاست میں ایک نیا اور چونکا دینے والا منظرنامہ سامنے آیا۔کامگار منتری و رکنِ اسمبلی آکاش دادا فونڈکر کی قیادت میں بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف واضح اکثریت حاصل کی بلکہ کئی روایتی سیاسی مفروضوں کو بھی زمین بوس کر دیا۔ نگر پریشد کے صدر (چیئرپرسن) کے عہدے پر بی جے پی کی امیدوار کامگار منتری آکاش فونڈکر کی بھابھی سواپناتائی ساگر فونڈکر نے 10 ہزار 561 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ 17 وارڈس سے منتخب ہونے والے 35 اراکین میں سے 29 کونسلر بی جے پی سے منتخب ہو کر آئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر میں اقتدار کا پلڑا مکمل طور پر ایک طرف جھک چکا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق شہر سے 7 مسلم کونسلر منتخب ہوئے، جن میں 2 بی جے پی، 2 راشٹروادی کانگریس (اجیت پوار گروپ)، 2 کانگریس جبکہ 1 آزاد امیدوار شامل ہے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار سیاسی تنوع کی تصویر پیش کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور تشویشناک ہے۔ اس انتخاب کا سب سے افسوسناک اور سوالیہ نشان بننے والا پہلو آزاد امیدوار انیس جمعدار کی شکست ہے۔ وہی انیس جمعدار جنہوں نے گزشتہ دس برسوں میں نہ صرف اپنے پربھاگ بلکہ شہر کے دیگر مسلم علاقوں میں بھی کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام انجام دیے، مگر اس کے باوجود عوامی فیصلہ ان کے حق میں نہ جا سکا۔ سیاسی مبصرین اس شکست کو عوامی ناقدری، غیر سیاسی سوجھ بوجھ اور وقتی نعروں کے پیچھے چلنے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ نتیجہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اب شہر کی سیاست میں کارکردگی، دیانت اور زمینی خدمات کی قدر کم اور جماعتی طاقت، نشان اور ہوا کی اہمیت زیادہ ہو چکی ہے۔ انیس جمعدار کی شکست دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ اس سوچ کی شکست ہے جو ترقی اور کام کو ووٹ کی بنیاد سمجھتی تھی۔ نتائج کے اعلان کے بعد بی جے پی عہدیداران اور کارکنان نے شہر کے چوک میں واقع پارٹی دفتر کے سامنے بڑی تعداد میں جمع ہو کر جشن منایا اور آتش بازی کی، جبکہ دوسری جانب باشعور حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا شہر نے واقعی اپنے بہترین نمائندوں کا درست انتخاب کیا ہے؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق کھام گاؤں نگر پریشد کے یہ نتائج آنے والے دنوں میں مسلم سیاست، آزاد قیادت اور ترقیاتی سیاست کے لیے ایک سخت انتباہ ثابت ہوں گے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والے انتخابات میں کارکردگی پر نہیں بلکہ محض سیاسی علامتوں پر فیصلے ہوتے رہیں گے، جس کا خمیازہ بالآخر شہر کو ہی بھگتنا پڑے گا۔