فاروق سید صاحب! کچھ یادیں کچھ باتیں از: شکیل مصطفی، مالیگاؤں 9145139913
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 01, 2026
0
share
روزنامہ’ اردو ٹائمز‘ میں معروف صحافی ساجد رشید صاحب، انجم رومانی صاحب، فاروق انصاری صاحب کے ساتھ ساتھ ایک نام اور مقبول تھا وہ تھا فاروق سید کا۔ساجد رشید صاحب زندگی نامہ کے لیے تو فاروق سید ’’گل بوٹے‘‘ کالم کے لیے۔ درج بالا افراد سے قلمی مراسم تھے اور میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ ’’گل بوٹے‘‘ کالم کے لیے تخلیقات ارسال کرنا اور شائع ہونے کے بعد جو خوشی محسوس ہوتی تھی وہ قابل دید تھی اور آج بھی ہے۔
گذشتہ دنوں ماہنامہ ’’گل بوٹے‘‘ کے مدیر جناب فاروق سید صاحب کا انتقال ہوا۔ فی زمانہ موبائل کے بڑھتے قدم کی وجہ سے اخبارات و رسائل کو کافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ قاری کم ہوتے رہے۔ اس بات کی تشویش محسوس کرتے ہوئے فاروق سید نے بچّوں کے رسائل کے مدیران سے رابطہ قائم کیا اور انھیں متحد کیا۔ آج بچوں کے رسائل رنگین شائع ہو رہے ہیں وہ ان ہی کی مرہون منت کا نتیجہ ہے۔ کرونا وائرس کے عفریت کے وقت کچھ کتب فروش مالی پریشانیوں سے دوچار ہوئے ایسے موقع پر فاروق سید صاحب نے نہ صرف ان کتب فروش افراد کو تسلی دی بلکہ اُن کی مالی اعانت کی۔ اس کوشش میں اُن کا ذاتی فائدہ نہ تھا۔ ماہنامہ گل بوٹے کے سلور جوبلی پروگرام دہلی میںرکھا گیا تھا۔ اس پروگرام میں مرحوم نے راقم الحروف کو بھی شرکت کا دعوت نامہ، دہلی میں قیام کے انتظامات سے آگاہ کیا تھا مگر افسوس کہ ذاتی مصروفیات کے سبب دہلی کے پروگرام میں شرکت نہ کرسکا۔ پروگرام کے خاتمے کے کئی روز بعد ممبئی میں فاروق سید صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ کہہ رہے تھے کہ انھیں دہلی کے پروگرام میں نقصان اُٹھانا پڑا۔ دہلی میں اُن کا پروگرام دیکھتے ہوئے کئی حریص بچوں کے ادیب افراد نے فاروق سید صاحب کے پروگرام کی نقل کرکے خوب پیسہ کمایا۔ فاروق سید صاحب نے اپنے رسالہ گل بوٹے کا پروگرام ممبئی کی بجائے دہلی میں رکھا تھا۔ لالچی افراد نے بچّوں کے ادب کا پروگرام دہلی کی بجائے حیدرآباد میں رکھا او رمالا مال ہوگئے۔ 22؍ستمبر 2023ء کو ماہم (ممبئی) میںمیمن جماعت خانہ میں مہاراشٹر بھر کے اُردو خطاطی کے نمونے رکھے گئے تھے۔ شہر مالیگاؤں سے ایک قافلہ اس پروگرام میں شریک ہوا تھا۔ جن میں خطاط بھی تھے اور وہ طلباء بھی تھے جو خطاطی سیکھ رہے تھے۔ فاروق سید صاحب اس پروگرام میں بہ نفس نفیس شریک تھے۔ انہوں نے خطاط اور طلباء خطاط کی حوصلہ افزائی کی۔ راقم الحروف کی نظر میں اُن کا سب سے بڑا کارنامہ تو یہ تھا کہ ملک بھر کے بچّوں کے ادباء کی تصاویر اور مختصر کوائف کو انہوں نے ’’گلدستہ‘‘ نامی کتاب مرتب کرکے پیش کردیا۔ مرحوم کو اللہ رب العزت جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ (آمین)