سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ٹی ای ٹی لازمی، مہلت میں ایک سال کی توسیع تمام نظرِ ثانی درخواستیں مسترد، اساتذہ کو 31 اگست 2028 تک TET پاس کرنے کی مہلت
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 31, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) سپریم کورٹ آف انڈیا نے ٹی ای ٹی (Teachers Eligibility Test) مقدمے میں دائر تمام نظرِ ثانی (Review) درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا ہے، تاہم اساتذہ کو ٹی ای ٹی امتحان پاس کرنے کے لیے دی گئی مدت میں ایک سال کی توسیع دے دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس اہم فیصلے سے ملک بھر کے لاکھوں اساتذہ متاثر ہوں گے۔
جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس منموہن پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آر ٹی ای (Right to Education) قانون کے تحت خدمات انجام دینے والے تمام اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی اہلیت ہے۔ عدالت نے یہ بھی دو ٹوک انداز میں کہا کہ آر ٹی ای قانون نافذ ہونے سے قبل مقرر ہونے والے اساتذہ بھی اس شرط سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹی ای ٹی نہ صرف ملازمت برقرار رکھنے بلکہ ترقی (Promotion) کے لیے بھی ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے مطلوبہ تعلیمی اہلیت ناگزیر ہے۔
عدالت نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ آر ٹی ای قانون ماضی کی تقرریوں کو غیر قانونی قرار نہیں دیتا بلکہ اساتذہ کو مطلوبہ اہلیت حاصل کرنے کا مناسب موقع فراہم کرتا ہے تاکہ تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ فیصلے میں بچوں کے معیاری تعلیم کے حق کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ “بچوں کے مستقبل کی قیمت پر اساتذہ کی ملازمت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔” البتہ عدالت نے اساتذہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے اپنے سابقہ حکم میں جزوی ترمیم کی اور ٹی ای ٹی پاس کرنے کی مدت دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی۔ اب متعلقہ اساتذہ کو 31 اگست 2028 تک ٹی ای ٹی امتحان پاس کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سال میں کم از کم دو مرتبہ ٹی ای ٹی امتحانات منعقد کریں تاکہ اساتذہ کو مطلوبہ اہلیت حاصل کرنے کے مناسب مواقع میسر آ سکیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کر دیا کہ 31 اگست 2028 کے بعد مزید کسی قسم کی مہلت یا توسیع نہیں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ملک بھر کے غیر ٹی ای ٹی یافتہ اساتذہ کے لیے مقررہ مدت کے اندر امتحان پاس کرنا ناگزیر ہو گیا ہے، جبکہ تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کو معیارِ تعلیم کے فروغ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔