کتب خانے اور مطالعے کی تہذیب از قلم: وسیم سعید لائبریرین : محمدعلی کالج آف ایجوکشن (بی ۔ ایڈ) کامٹی Mob : 7620594269 Email.Id waseemsayeed77@rediffmail.com
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 15, 2026
0
share
پیارے بچوں! اگر ہم مستند اور معتبر کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اُس تخلیق شدہ کتاب کے مصنف کے دماغ میں منتقل ہوجاتے ہیں اوراُس کی تحریر سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں ُبھلے ہی وہ ہزاروں سال قبل اس دارفانی سے رخصت ہوچکا ہو،
صدیوں کا فاصلہ طے کرنے کے باوجود بالکل واضح الفاظ میں ہم اُس کے ساتھ محو گفتگو ہوجاتے ہیں اور وہ ہم سے مخاطب ہوتا چلا جاتاہے۔ فن تحریر شاید انسان کی سب سے بڑی تخلیق ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جانے انجانے طور پر منسلک کردیتی ہے ٗ جو ایک دوسرے کو جانتے تک بھی نہیں۔
کتابیں ہمیں مختلف دور کے باشندوں سے روشنا س کراتی ہیں۔ کتابیں وقت کی زنجیروں کو توڑدیتی ہے ۔ دور حاضر کی لائبریریوں اور کتب خانوں کی الماریاں آج بھی ایسے باکمال انسانوں کی تحریروں سے بھری پڑی ہیں۔
تصور کریں کہ اگر علم صرف زبان کے ذریعے ایک دوسرے میں منتقل ہوتاتو ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں کتنا کم علم ہوتا اور ہماری ترقی کی رفتار کتنی ست ہوتی ۔ ہر ترقی کی رفتار اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ہمیں جو بتایا گیا ہے وہ کسی حد تک د رست ہے۔ یہ ہمیں کتابوں کے مطالعے سے ہی پتہ چلتاہے۔ زبانی قدیم علوم لوگوں تک پہنچتے پہنچتے بدل جاتے ہیں اورآخر کار ضائع ہوجاتے ہیں۔
پیارے بچو!کتابیں ہمیں وقت کے مطابق سفر کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ کہکشاں میں موجود تمام ستاروں و سیاروں اور تاریخ کے سارے عظیم ذہنوں اور قابل اکرم استادوں سے ہمارے رشتے کو مضبوط کرتی ہیں یہ لائبریریاں اور انسانی نسل کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار بھی اداکرتے ہیں یہ کتب خانے۔ہماری تہزیب کی صحت ،ہمارے شعور کی گہرائی اور مستقبل کے بارے میں تجس کا امتحان اس بنیاد پو ہوتاہے کہ ہم اپنی لائبریریوں کو کیسے رکھتے ہیں۔ کتابوں کی بدولت ہی ہم باآسانی قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ یقیناََ کتابیں علوم اور معلومات کا خزانہ ہوتی ہے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ ّایک آدمی دس کتابوں کا مطالعہ کرتاہے تو دس ہزار میل کا سفر کرلیتا ہےٗ۔ ایک عظیم دانشور کا کہنا ہے کہ اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو کم کردے بلکہ اچھی کتابیں وہ ہیں جو ہماری بھوک کو بڑھادے ٗزندگی کو جاننے کی بھوک ٗ۔کسی نے کیا خوب کہاہے کہ وحشی زمانوں کو چھوڑکر دُنیا میں انسانوں سے زیادہ کتابوں نےحکومت کی ہےٗ۔ چین پال کا کہنا ہے کہ ّ کتابیں ایک طویل ترین خط ہے جو دوست کے نام لکھا گیا ہوٗ۔ نووالس نے کہا کہ ّ کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری ایسی جگہ ہے جہاں ہم ماضی اور حال کے دیوتائوں سے آزادی کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہیں۔ کتب خانے ذہن اور روح کو غذا فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے ہمارے ملک میں تعلیم کے عطیے کو بہترین تحفہ مانا گیا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی، صنعتی ، سائنسی اور تعلیمی ڈھانچوں کی ترقی میں کتب خانوں کی شراکت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج طباعت کے میدان میں بے مثال انقلاب برپا ہونے کی وجہ سے کتابوں کی رسائی عام لوگوں تک آسان ہوگئی ہے۔ تا ہم اس کے باوجود اس سے بھر پور فائدہ اُٹھانے میں کسی حد تک کمی کا احساس ہوتاہے۔ بھارت رتن معمارآئین بابا صاحب ڈاکٹر بھیم رائو امیبڈکر کا قول ہے کہ ّ اگرآپ کے پاس دو روپے ہیں تو ایک روپے کی ر وٹی اور ایک روپے کی کتابیں خریدیں، کیوں کہ روٹی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے تو کتابیں زندگی گزارنے کا درس دیتی ہیں۔ روٹی،کپڑا اور مکان کی طرح کتابیں بھی انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہیں۔ اس قول سے یہ سمجھا اور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں کتابیں کتنی اہمیت کی حامل ہیں۔ اچھی کتابیں پڑھنا اچھا مشغلہ ہے ۔اس لیے کتابوں کے تیئں شوق و ذوق ، دلچسپی و انہماک کا جذبہ پید اکرنے ، ساتھ ہی ساتھ کتابوں کا ادب و احترام کرنے کے لیے پوری دُنیا میں 23 اپریل کو ہر سال عالمی یوم کتاب منایا جانا ہے۔ اس دن اساتذہ ، مصنفین ، پبلشرز ،لائبریرین ،تمام تعلیمی اداورں ، نجی تنظیموں ، میڈیا اورکارپوریٹ کے ذریعے عالم سطح پرمختلف قسم کی تقریبات کا اہمتام کیا جاتاہے۔ ان تقریبات میں مصنفوں ، ناشروں اور نمایاں کتابوں کو بک پبلشنگ ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہند نے ہر سال 23 اپریل کو عالمی کتاب منانے کا اعلان کیا تھا۔ پیارے بچوں ! بچپن میں ہم دادا، دادای ، نانا اورنانی سے کہانیاں سنتے تھے، اسکول میں جانے پر درسی و نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ کہانیوں کی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے، لیکن موجودہ دور کی پچھلی دو دہائیوں میں کمپیوٹر ،لیپ ٹاپ ، اسمارٹ فون ، اسمارٹ ٹی وی،انٹرنیٹ اور تفریح کے دیگر لوازمات کے تئیں بڑھتی دلچسپی اور لگائو کے باعث کتابوں سے دلچسپی قدرے کم ہوگئی ہے۔ کتب بینی کے لیے اقدامات کرنا آج وقت کی اشد ضرورت ہے۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آج والدین کو خود اپنے اندرمطالعے کا شوق پیدا کرکے ایک مثال قائم کرنا ہے ۔ اپنے حلقئہ احباب میں اچھی کتاب کا ذکر کرکے، مطالعہ و تبصرہ اور تجزیہ کرکے شوق و ذوق کواُبھارنا چاہیے۔ ہمارے اشاعتی اداروں کو بھی وقت کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے معیاری اور کم داموں والی کتابیں شائع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔