صحراء سے گلستاں دور نہیں تحریر: محمد یاسین ندوی معلم : جے اے ٹی گرلس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج مالیگاؤں
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 15, 2026
0
share
موسمِ گرما کی تعطیل ختم ہوئی۔ 15/ جون بروز پیر سے اسکولیں حسب سابق جاری ہو گئیں۔۔۔ ، تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوگیا۔طلبہ اپنے پچھلے تعلیمی ریکارڈ سے کچھ بہتر کرنے کے جذبے سے سرشار ہوں گے،
بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی ان میں ایک نئی جان ڈال دے گی، نئے عزم تازہ حوصلوں کے بڑھتے قدم بستہ اٹھائے ایک تاریخ رقم کرنے کے لیےخراماں خراماں اپنی تعلیم گاہوں کی طرف گامزن ہوں گے۔
نئےعزائم کیساتھ اپنے کلاس روم میں داخل ہوں گے۔اساتذہ مشفقانہ رویوں کے ساتھ بڑھ کر استقبال کریں گے۔انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔ طلبہ اپنے نئے اساتذہ سے مسرتِ ملاقات سے ہویدا ہورہے ہوں گے۔ یقیناً یہ قابلِ دید اور یادگار لمحہ ہوتا ہے ۔جو امید کی بلندیوں کے ساتھ ہر طلبہ وطالبات کو اپنی قومی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔
اسکول کے پہلے ہی دن سے علم اور معاشرت کیساتھ عمر بھر کے تعلق کا آغاز ہوتا ہے۔ نئی تعلیمی شروعات اور بلند حوصلوں میں ایک حسین امتزاج ہوتا ہے ۔ننھے ننھے ہاتھ بڑے بڑے جذبات کو تھامے ہوتے ہیں ۔اور متجسس آنکھیں ایک بالکل نئی دنیا کا آغاز کررہی ہوتی ہیں۔
دل ودماغ میں ترقی کے خواب سجے ہوتے ہیں۔رفتہ رفتہ علم کے حصول کا تجسس بڑھنے لگتا ہے۔ ہمتیں پختہ ہونے لگتی ہیں، خود اعتمادی کی صفت پروان چڑھنے لگتی ہے۔
مسابقت کا جذبہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ بالآخر کامیابیاں قدم چومنے لگتی ہیں۔ جس منزل کی حصول کے خاطر تَگ و دَو کی، مختلف کتابوں کی اوراق گردانی کی، کُتب بینی و ذوقِ مطالعہ کو اپنایا،جہد مسلسل سے زمانہ کی تُرش رُوئی سے نبردآزما ہوا، تب وہ منزل اُس کے دروازے پر دستک دے رہی ہوتی ہے۔ والدین کی آنکھوں میں خوشیوں کی چمک آجاتی ہے۔ بھائی بہن پھولے نہیں سماتے۔ عزیز واقارب مبارکبادی دینے لگتے ہیں۔ دوست واحباب رشک کرنے لگتے ہیں۔ تب ضمیر بول اٹھتا ہے۔ سنتے ہیں کہ کانٹے سے گُل تک ہیں راہ میں لاکھوں ویرانے کہتا ہے مگر یہ عزم جنوں صحرا سے گلستاں دور نہیں اسکول کا پہلا دن ایک روشن مستقبل کی امیدوں کا پیغام لے کر آتا ہے، نیا تعلیمی سال امنگوں اور حوصلوں کو جلا بخشتا ہے۔ طلبہ۔کر کوچاہیے کہ وہ ایک تازہ جذبے، محنت ولگن، نظم وضبط، اطاعت وفرمانبرداری، باقاعدگی، حسنِ لباس، ادب واحترام ۔پابندئی وقت، صفائی ستھرائی، بہتر کارکردگی کی امنگ کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کریں۔ جب آپ کے اندرپہلے ہی دن سے یہ جذبہ کارفرما ہوگا، تو آپ بارگاہِ خداوندی میں جذبۂ شکر کیساتھ اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ نہال ہوکر اپنے والدین کو اپنی کامیابی کی داستانیں سنائیں گے۔ اگلے دن ذوق وشوق سے بھاگتے ہوئے چمکتی آنکھوں کیساتھ اپنے کمرۂ جماعت میں داخل ہو گے۔ بھاگتے ہوئے چمکتی آنکھوں کیساتھ اپنے کمرۂ جماعت میں داخل ہو گئے ہیں۔۔ تو آئیے! نئے تعلیمی سال کا آغاز یقیں محکم، جہد مسلسل، عمل پیہم کے ساتھ کریں کہ ہم علم کو صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔ صرف اعلی گریڈ حاصل کر کے مطمئن نہ ہوں گے۔ بلکہ اپنی شخصیت کو سنوار کر، اپنے کردار کو پاکیزہ بنا کر، اپنی قوم کے لیے روشن مثال بن کر دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں گے۔ منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل خیرات میں تو چاند ستارے نہیں ملتے