امراوتی ، ایک نکاح ایسا بھی سادگی، سنت اور سماجی شعور کی خوبصورت مثال
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 16, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) آج کے پُرفتن دور میں جہاں شادی بیاہ کی تقریبات میں لاکھوں روپے خرچ کرکے نمود و نمائش، پرتکلف دعوتوں اور غیر ضروری رسومات کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، وہیں امراوتی میں منعقد ہونے والا ایک سادگی بھرپور نکاح سماج کے لیے ایک مثالی پیغام بن گیا۔
امراوتی کی وحدت کالونی میں واقع مسجدِ توحید میں یہ بابرکت نکاح نہایت سادہ مگر پُروقار انداز میں انجام پایا۔ مولانا الیاس خان فلاحی اور حافظ عبدالقادر نے نکاح پڑھایا۔
اس موقع پر مہمانوں کی تواضع صرف شربت سے کی گئی، جبکہ کسی قسم کی فضول آرائش یا بے جا اخراجات سے مکمل اجتناب برتا گیا۔
حیدرپورہ، امراوتی کے رہائشی قاضی لئیق احمد کی صاحبزادی جویریہ صدیقہ کا نکاح الکریم نگر کے رہائشی نعیم خان کے فرزند نعمان خان کے ساتھ انجام پایا۔
اس موقع پر دونوں خاندانوں نے سادگی کو اختیار کرتے ہوئے معاشرے میں بڑھتی ہوئی فضول خرچی کے خلاف ایک مثبت مثال قائم کی۔
نکاح تقریب میں تقسیم کیے گئے پیغام میں کہا گیا کہ موجودہ دور میں شادی بیاہ کی تقریبات ایک سماجی بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ مہنگے ملبوسات، پرتکلف دعوتیں، سجاوٹ، بینڈ باجا اور دیگر نمائشی رسومات کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے خاندان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
۔ کئی خاندان بیٹیوں کی شادی کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کے اثرات برسوں تک ان کی زندگی پر باقی رہتے ہیں۔ پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور معاشرے سے غیر ضروری بوجھ ختم کرنے کی تعلیم دی ہے۔
نکاح کا اصل مقصد دو خاندانوں کو جوڑنا اور نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے، نہ کہ مقابلہ آرائی اور دکھاوے کا ذریعہ بنانا۔ اسلامی تعلیمات میں سادگی کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے اور فضول خرچی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ تقریب میں موجود شرکاء سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے خاندانوں میں بھی سادگی سے نکاح کو فروغ دیں تاکہ بیٹیوں کی شادی کسی خاندان کے لیے معاشی بحران کا سبب نہ بنے۔ نکاح تقریب میں مقامی دینی، سماجی اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر نوجوانوں اور سرپرستوں سے سادہ اور سنت کے مطابق نکاح کو عام کرنے کی اپیل کی گئی۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ، “شادی خوشی کا موقع ضرور ہے، لیکن اگر یہی خوشی معاشی بوجھ میں تبدیل ہو جائے تو اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ سادگی پر مبنی نکاح نہ صرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے بلکہ یہ معاشرے کو قرض، نمود و نمائش اور فضول خرچی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔”