بال بھارتی کی اردوٗ لسانی کمیٹی میں ایڈوکیٹ متین طالبؔ کی شمولیت — ضلع بلڈانہ کے لیے ایک تاریخی اعزاز مضمون نگار خان نویدالحق اسپیشل آفیسر برائے اردو بال بھارتی پونہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 15, 2026
0
share
علم و ادب کی دنیا میں بعض کامیابیاں محض شخصی کامیابیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ پوٗرے علاقے، معاشرے اور تعلیمی حلقوں کے لیے باعثِ افتخار بن جاتی ہیں. ایسی ہی ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق ادارۂ بال بھارتی، پوٗنہ کی جانب سے تیار کردہ درسی کتب برائے تعلیمی سال 2026-27 منظرِ عام پر آچکی ہیں،
جن میں اردوٗ زبان دانی کی جماعت اول تا چہارم کی کتابوں میں معروٗف معلّم، محقّق، شاعر اور ماہرِ تعلیم ایڈوکیٹ متین احمد خان المعروف متین طالبؔ کا نام اردوٗ لسانی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے درج ہے.
مزید برآں جماعت سوم کی جغرافیہ کی کتاب میں ان کا نام مترجم کے طور پر بھی شامل کیا گیا ہے، جو ان کی علمی قابلیت، لسانی مہارت اور تعلیمی خدمات کا ایک روشن اعتراف ہے.
یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی علمی ریاضت، تدریسی تجربے، مطالعے کی وسعت اور زبان و ادب سے گہری وابستگی کا ثمرہ ہے. 2024ء میں جب ادارۂ بال بھارتی، پوٗنہ نے مختلف لسانی کمیٹیوں کی ازسرِ نو تشکیل کا فیصلہ کیا تو ایڈوکیٹ متین طالبؔ کو ان کی غیر معمولی صلاحیتوں، تعلیمی خدمات اور اردوٗ زبان پر مضبوٗط دسترس کے پیشِ نظر تحریری امتحان اور انٹرویو کے ذریعے اردوٗ لسانی کمیٹی کے لیے منتخب کیا گیا.
یہ انتخاب دراصل ان کی علمی حیثیت پر ایک معتبر ادارے کے اعتماد کا اظہار تھا. متین طالبؔ کا تعلق ضلع بلڈانہ کے تاریخی گاؤں نیم گاؤں سے ہے، اگرچہ وہ طویل عرصے سے ناندورہ میں سکونت پذیر ہیں. ناندورہ کی سرزمین نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کئی ممتاز شخصیات پیدا کی ہیں، لیکن یہ منفرد اعزاز ایڈوکیٹ متین طالبؔ کو حاصل ہوا کہ وہ ناندورہ شہر سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت ہیں جنھیں ریاستی سطح کے اس باوقار تعلیمی ادارے کی اردوٗ لسانی کمیٹی میں شامل کیا گیا. یہ کامیابی نہ صرف ناندورہ بلکہ پوٗرے ضلع بلڈانہ کے تعلیمی و ادبی حلقوں کے لیے باعثِ مسرت و افتخار ہے. تعلیمی اعتبار سے متین طالبؔ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں. انھوں نے اردوٗ میں ایم اے، بی ایڈ اور بی ایس سی جیسی اہم ڈگریاں حاصل کیں اور مسلسل علمی سفر جاری رکھتے ہوئے اس وقت سے ’’ودربھ میں جدید اردوٗ غزل‘‘ کے موضوع پر تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں. ان کی تحقیق محض ڈگری کے حصوٗل کا ذریعہ نہیں بلکہ ودربھ کے اردوٗ ادبی منظرنامے کو علمی بنیادوں پر مرتّب کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے. 2006ء میں وکالت کی سند حاصل کرنے کے بعد انھوں نے کچھ عرصہ قانون کے شعبے میں خدمات انجام دیں، لیکن تعلیم و تربیت کے میدان کی کشش انھیں تدریس کی طرف لے آئی. یوں انھوں نے درس و تدریس کے مقدس پیشے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا. گزشتہ دو دہائیوں پر محیط تدریسی زندگی میں انھوں نے نہ صرف ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کی بلکہ تعلیمی اداروں کی ترقی اور تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے بھی گرانقدر خدمات انجام دیں. ضلع پریشد اردوٗ اسکول واگھی (ضلع واشم) اور ضلع پریشد اردوٗ اسکول ہاشم پوٗر کی تعلیمی ترقی میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. ان کی محنت، منصوبہ بندی اور تعلیمی بصیرت کے باعث ان اداروں میں تدریسی معیار بہتر ہوا اور طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا. آج وہ اپنے مادرِ علمی ادارے ضلع پریشد اردوٗ مڈل اسکول نیم گاؤں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی علمی و تدریسی صلاحیتوں سے نئی نسلوں کی فکری آبیاری کر رہے ہیں. متین طالبؔ صرف ایک معلّم ہی نہیں بلکہ ایک تربیت کار، منتظم، محقّق اور رہنما بھی ہیں. مختلف تربیتی پروگراموں میں ریسورس پرسن کی حیثیت سے ان کی خدمات اس امر کا ثبوٗت ہیں کہ وہ تعلیم کو محض نصابی سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی اور سماجی ذمے داری سمجھتے ہیں. ان کی شخصیت میں تدریسی مہارت، علمی سنجیدگی، تحقیقی ذوق اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے. گزشتہ دو برسوں کے دوران بال بھارتی، پوٗنہ کی متعدد علمی نشستوں، مشاورتی اجلاسوں اور نصابی مباحث میں ان کی فعال شرکت رہی. انھوں نے جماعت اول تا چہارم کی اردوٗ زبان دانی کی درسی کتب کی ترتیب، تدوین، لسانی اصلاح، مواد کے انتخاب اور تعلیمی افادیت کو بہتر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا. یہی وجہ ہے کہ آج ان کا نام ان درسی کتابوں کے صفحات پر ایک ذمے دار علمی کارکن کے طور پر درج ہے. اس کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھیں بال بھارتی جیسے ریاستی سطح کے معتبر ادارے میں کام کرنے کا موقع ملا اور اس دوران اردوٗ زبان و ادب کے ممتاز علما، ماہرینِ تعلیم اور دانشوران کی رفاقت اور علمی تربیت یقیناً کسی بھی تعلیمی کارکن کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مزید نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں. امید کی جاتی ہے کہ ایڈوکیٹ متین طالبؔ اپنی علمی، ادبی اور تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اردوٗ زبان کی ترویج، اردوٗ ذریعۂ تعلیم کے اسکولوں کے استحکام، نصابی بہتری اور نئی نسل کی فکری تربیت کے میدان میں مزید مؤثر کردار ادا کریں گے. ان کی یہ کامیابی نوجوان اساتذہ، طلبہ اور اردوٗ زبان سے وابستہ افراد کے لیے یقیناً ایک روشن مثال اور تحریک کا ذریعہ ہے. اللہ تعالیٰ انھیں صحتِ کاملہ، عمرِ دراز، مزید علمی بصیرت اور خدمتِ تعلیم کی توفیق عطا فرمائے، ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انھیں اردوٗ زبان و ادب کے فروغ کے لیے مزید کامیابیوں سے نوازے. (آمین)