ٹرک ڈرائیور کی بیٹی کائنات خانم کا کمال، NEET پاس کرکے پورا کیا ڈاکٹر بننے کا خواب
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 18, 2026
0
share
News18اُردو
دربھنگہ: کہا جاتا ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں اور خاندان کا ساتھ مل جئے تو کوئی بھی خواب ادھورا نہیں رہتا۔ دربھنگہ کی رہنے والی کائنات خانم نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ ٹرک ڈرائیور والد کی بیٹی کائنات نے نیٹ (NEET) امتحان اس کرکے ڈاکٹر بننے کا اپنا خواب پورا کر لیا ہے۔ اب ان کا داخلہ ایک اچھے میڈیکل کالج میں ہونے جا رہا ہے۔ اس کامیابی کے بعد پورے خاندان کی آنکھیں خوشی سے نم ہیں۔ ٹرک چلا کر خاندان کا خرچ اٹھاتے ہیں کائنات کے والد امتیاز احمد خان ٹرک چلا کر اپنے خاندان کا خرچ پورا کرتے ہیں۔ وہ برونی سے سمستی پور تک ٹرک چلاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو پڑھانے کے لیے دن رات محنت کی۔ کئی بار پوری رات گاڑی چلانی پڑتی تھی۔ کام کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا تھا، لیکن انہوں نے کبھی بیٹی کی تعلیم میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ امتیاز احمد کہتے ہیں کہ بیٹی کا ڈاکٹر بننے کا خواب ان کا اپنا خواب بھی بن گیا تھا۔ محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا، شہر میں کرائے کا مکان لیا، تعلیم کا خرچ برداشت کیا اور آج بیٹی کی کامیابی نے ان کی تمام محنت کو کامیاب بنا دیا۔ والد نے دربھنگہ میں کرائے کا گھر لیا کائنات نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم مغربی بنگال میں اپنے نانا نانی کے گھر ہوئی تھی۔ کووڈ-19 وبا کے دوران وہ اپنے گاؤں موروارا واپس آ گئیں۔ گاؤں میں آن لائن تعلیم کے دوران نیٹ ورک کا بڑا مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہونے لگی۔ تب ان کے والد نے دربھنگہ میں کرائے کا گھر لے کر انہیں بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم دربھنگہ کے ایم آر ایم اسکول سے مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر بننے کے مقصد کے ساتھ نیٹ کی تیاری شروع کی۔ پہلی بار کامیابی نہیں ملی۔ کئی بار امتحان دینے کے باوجود مایوسی ہاتھ لگی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے امید چھوڑ دی تھی۔ پیپر لیک ہونے کی وجہ سے امتحان دوبارہ ہوا کائنات بتاتی ہیں کہ پہلی بار نیٹ امتحان میں ان کا اسکور اچھا تھا اور وہ کوالیفائی بھی کر گئی تھیں، لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے امتحان دوبارہ کرایا گیا۔ اس خبر نے انہیں ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا۔ انہیں لگا کہ شاید اب دوبارہ کامیابی حاصل نہ ہو سکے۔ اسی دوران ان کے استاد نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور ہار نہ ماننے کا مشورہ دیا۔ استاد کے کہنے پر انہوں نے ادارے کے ہاسٹل میں رہ کر دوبارہ تیاری شروع کی۔ سخت ٹیسٹ، مسلسل مشق اور اساتذہ کی رہنمائی نے ان کا اعتماد دوبارہ بحال کر دیا۔ آخرکار محنت رنگ لے آئی کائنات روزانہ 12 سے 13 گھنٹے پڑھائی کرتی تھیں۔ وہ رات دو بجے تک پڑھتی تھیں اور صبح اٹھ کر دوبارہ تعلیم میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ ری-نیٹ کی تیاری کے دوران سخت ٹیسٹوں میں کم نمبر آنے پر وہ کئی بار رو بھی پڑتی تھیں، لیکن انہوں نے محنت کرنی نہیں چھوڑی۔ آخرکار ان کی محنت رنگ لے آئی۔ نیٹ امتحان میں انہیں 720 میں سے 593 نمبر حاصل ہوئے۔ ان کی آل انڈیا رینک 12,575 اور کیٹیگری رینک 1,407 آئی۔ اب ان کا میڈیکل کالج میں داخلہ تقریباً یقینی مانا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر بننے کے بعد کائنات کا خواب کائنات اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین کی قربانیوں اور اپنے استاد کو دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان کی معاشی حالت مضبوط نہیں تھی، لیکن والدین نے کبھی ان کی تعلیم رکنے نہیں دی۔ ڈاکٹر بننے کے بعد کائنات کا خواب ہے کہ وہ اپنے والدین کی ہر ضرورت پوری کریں اور ساتھ ہی غریب اور ضرورت مند لوگوں کا ایمانداری کے ساتھ علاج کریں۔ بیٹی کی کامیابی پر ماں جذباتی ہوگئیں دوسری جانب بیٹی کی کامیابی پر ان کی والدہ بھی جذباتی ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ پورے خاندان نے اس کامیابی کو جدوجہد، محنت اور یقین کی فتح قرار دیا۔ دربھنگہ کی یہ بیٹی آج ہزاروں نوجوانوں کے لیے ایک متاثر کن مثال بن گئی ہے۔ x