خزاں کی رت میں بھی پتے ہرے بناتا تھا
وہ زندگی کے نئے زاویے بناتا تھا
میں جب بھی پاؤں بڑھاتا تھا جانبِ منزل
وہ شخص میرے لیے راستے بناتا تھا
ہنر سے اپنے وہ کرتا تھا عکس بھی تخلیق
یہی نہیں کہ فقط آئنے بناتا تھا
لبوں پہ اپنے وہ رکھتا تھا حرف حرف دعا
پھر اُن کو جوڑتا اور سلسلے بناتا تھا
نہیں ہے آج وہی تازہ رت میں ساتھ مرے
جو میرے واسطے موسم نئے بناتا تھا
اسی نے مجھ کو سکھایا ہے شاعری کرنا
وگرنہ میں تو فقط قافیے بناتا تھا
یونہی نہیں تھا ترنم میں اس کے سوز و گداز
وہ اپنی روح کے زخموں کی لے بناتا تھا
خدا بچائے شب تار سے اسے اکبر
وہ میرے طاق میں اجلے دیے بناتا تھا
صدیق اکبر مالیگاؤں
