بلڈانہ (محمد شاکر ہمدرد) شہر لونار کے لیے ایک اور خوش آئند بات کہ لِونار کا ایک لعل بنام شیخ آصف شیخ مصطفی لونارہی میں مڈل اسکول پر جوائنٹ ہوکرسرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے حال ہی میں مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مہاراشٹر کی مختلف اضلاع کی معلمین کی خالی آسامیوں میں سے کچھ آسامیاں پُر کی گئی ہیں
اساتذہ کے نام اور کس ضلع میں تقرر کی ایک فہرست پوتر پورٹل پر ظاہر ہوتے ہی گاؤں، شہر جہاں کے نوجوانوں کے نام اس فہرست میں درج ہے ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا آج سرکاری نوکری ملنا کوئی گڑیا گڑی کا کھیل نہیں اس کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے ۔
حالیہ دور مقابلہ آرائی کا دور ہے ۔شیخ آصف اس کی زندہ مثال ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی ۔ شیخ آصف کی اس مثالی کارکردگی پر محمدی مکتب واراکین کی جانب سے شیخ آصف سر (قلم کوچنگ کلاس) کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیاگیا ۔
تقریب کے صدرمشہور ومعروف شخصیت صدرجمعیت علماء ہند لونار الحاج محمد رضوان صاحب جڈا نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شیخ آصف سر کو گل اور شال دے کر انکا پر پرتپاک استقبال کیا ۔اور انکے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔مکتب کے طلبہ سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کےانسانی زندگی کی تمام بہاریں جد وجہد اور محنت پر ہی منحصر ہوتی ہیں ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جیسا بونا ویسا کاٹنا ‘‘ یہ محاورہ انسانی زندگی کی اسی سچائی کو واضح کرتا ہے ۔
بقول شاعر
دست محنت سے بنا تو بھی کوئی نقش عظیم
چشم حسرت سے کسی محل کی تعمیر نہ دیکھ
اس مختصر لیکن جامع صدارتی خطاب کے بعد شیخ آصف سر نے کہا کہ اگر آپ کو کسی بھی چیز کو حاصل کرنا ہے تو محنت لازمی ہے بغیر محنت کے آج اس دور رفته میں کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا اور اللہ ربّ العزّت بھی کسی کی بھی محنت کو رائیگاں نہیں کرتا چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ۔ جو طلبہ محنت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں بلندیاں اُنکے قدم چومتی ہے ۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے تقریب کے آخر میں صدر تقریب نے اراکین مکتب اور جمعیت علماء ہند یونٹ لونار کے اراکین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پر رونق تقریب کا اہتمام کیا ۔
اس طرح یہ استقبالیہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔


