شادی کی تاریخ طے کرنے آئے تھے، 14 منٹ کی گفتگو نے مجلس کو نکاح میں بدل دیا سہیل امیر شیخ کی تجویز پر دونوں خاندانوں کا فوری اتفاق، سادگی اور آسان نکاح کا عملی نمونہ پیش
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 05, 2026
0
share
(یاول،ضلع جلگاوں) 3 اکتوبر:
جلگاؤں ضلع کے یاول تعلقہ میں گزشتہ روز ایک ایسی سادہ اور بابرکت شادی کی مجلس منعقد ہوئی جو نکاح کو آسان بنانے، غیر ضروری رسومات سے بچنے اور لڑکی والوں پر شادی کا اضافی بوجھ نہ ڈالنے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی۔
تفصیلات کے مطابق 2 اکتوبر کی شام فیض پور سے قاضی خاندان کے افراد، قاضی ہارون رشید کے صاحبزادے قاضی مبشراور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ یاول پہنچے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد یاول میں مقیم عبدالرحیم خان کی دختر اور میونسپل کونسلر قادر خان و ڈاکٹر بشیر کی بھتیجی کے نکاح کے سلسلے میں شادی کی حتمی تاریخ طے کرنا تھا۔
مجلس میں دونوں خاندانوں کے ذمہ داران اور قریبی افراد موجود تھے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی مشاورتی نشست تھی، جہاں آئندہ شادی کی تاریخ اور تقریبات کے حوالے سے گفتگو ہونا تھی، تاہم مجلس نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کیا جب خاندیش کی معروف شخصیت جناب سہیل امیر شیخ صاحب نے دونوں خاندانوں سے نکاح کو آسان بنانے کے موضوع پر گفتگو کی۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ جب دونوں خاندان رشتۂ نکاح پر رضامند ہیں اور متعلقہ افراد بھی موجود ہیں تو غیر ضروری رسومات اور مستقبل کی تقریبات کا انتظار کرنے کے بجائے اسی مجلس کو نکاح کی بابرکت مجلس میں تبدیل کیوں نہ کردیا جائے؟
ذرائع کے مطابق اس تجویز پر صرف 14 منٹ کی مشاورت ہوئی اور دونوں خاندانوں نے خوش دلی کے ساتھ اتفاق کرلیا۔ یوں جس مجلس میں شادی کی حتمی تاریخ طے کرنے کے لیے لوگ جمع ہوئے تھے، اسی مجلس میں نکاح کا فیصلہ بھی ہوگیا اور نکاح کی کارروائی بھی مکمل کرلی گئی۔
نہ بڑی تقریب، نہ غیر ضروری تکلفات اس نکاح کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ نکاح کی کارروائی میں صرف دلہا اور دلہن کی جانب سے موجود افراد شریک ہوئے۔ نہ کسی بڑے اجتماع کا انتظار کیا گیا، نہ دعوتوں اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا اور نہ ہی خاندانوں کی سماجی حیثیت کو بنیاد بنا کر غیر ضروری انتظامات کیے گئے۔
حالانکہ یاول اور فیض پور دونوں مقامات پر یہ خاندان اپنے اپنے حلقوں میں بڑے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ روایتی انداز اختیار کیا جاتا تو دونوں جانب سے بڑی تعداد میں عزیز و اقارب اور دیگر افراد کی شرکت متوقع تھی، لیکن خاندانوں نے اس موقع پر سادگی کو ترجیح دیتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ کیا جس سے لڑکی والوں پر کسی اضافی بوجھ کا امکان ہی باقی نہیں رہا۔
اس اہم موقع پر جناب سہیل امیر شیخ صاحب نے نکاح کی اہمیت اور اسے آسان بنانے کی ضرورت پر ایک جامع خطاب کیا۔ اور تمام ہی شرکائے مجلس سے اس بات کا عہد لیا کہ ہم اپنے خاندانوں میں اور اپنے معاشرے میں اسان نکاح کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا کہ نکاح مسلم معاشرے کا ایک اہم دینی اور معاشرتی ادارہ ہے اور اسے غیر ضروری اخراجات، رسم و رواج اور تکلفات میں مشکل بنانے کے بجائے سادگی اور سنت کے مطابق آسان بنایا جانا چاہیے۔
امیر صاحب نے کہا کہ نکاح جتنا آسان ہوگا، معاشرے میں پاکیزہ اور جائز خاندانی زندگی کے راستے اتنے ہی وسیع ہوں گے۔ اس کے برعکس جب نکاح کو مہنگی تقریبات، غیر ضروری رسومات اور معاشرتی دباؤ سے جوڑ دیا جاتا ہے تو نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور معاشرتی برائیوں کے راستے کھلتے ہیں۔
انہوں نے خصوصی طور پر زور دیا کہ لڑکی والوں پر شادی کے نام پر کسی قسم کا غیر ضروری مالی یا معاشرتی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، جبکہ لڑکے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ مطالبات، تکلفات اور دکھاوے سے اجتناب کریں۔
جناب سہیل امیر شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مسلمان واقعی ایک پاکیزہ اور اسلامی معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف نکاح کی اہمیت بیان کرنے کے بجائے عملاً نکاح کو آسان بنانے کی روایت قائم کرنا ہوگی۔
ایک مجلس، ایک فیصلہ اور ایک عملی پیغام
دونوں خاندانوں کی جانب سے اس تجویز کو قبول کرنا اور اسی مختصر مجلس میں نکاح مکمل کرنا اس بات کا عملی ثبوت بن گیا کہ شادی کو بابرکت بنانے کے لیے بڑی تقریبات اور بھاری اخراجات ضروری نہیں۔ اس موقع پر قاضی ریاض احمد ،حاجی شبیر سیٹھ، انصار سیٹھ، قادیر خان ، عبدالرحیم خان، ڈاکٹر رئیس، قاضی زبیر احمد، قاضی تنویر، شہر کے نمائندہ اور دیگر معززین نے اس سادہ اور بابرکت فیصلے کا خیرمقدم کیا اور نئے جوڑے کو مبارکباد پیش کی۔
شرکائے مجلس نے جوڑے کے لیے خوشگوار اور بابرکت ازدواجی زندگی کی دعا بھی کی۔
یہ واقعہ محض ایک نکاح کی تقریب نہیں بلکہ نکاح کو آسان بنانے کے ایک اہم معاشرتی پیغام کا عملی اظہار بن گیا ہے۔ شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے منعقد ہونے والی ایک مختصر مجلس کا صرف 14 منٹ کی مشاورت کے بعد نکاح کی مجلس میں تبدیل ہوجانا اس بات کی مثال ہے کہ اگر خاندان رضامند ہوں اور نیت اصلاحِ معاشرہ کی ہو تو رسومات کے بجائے سنت، تکلفات کے بجائے سادگی اور اخراجات کے بجائے آسانی کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس جوڑے کے نکاح کو بابرکت فرمائے، دونوں خاندانوں میں محبت و الفت قائم رکھے اور ہمارے معاشرے میں آسان، سادہ اور کم خرچ نکاح کی یہ روایت عام فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔