کھام گاؤں سے معاشرے کو سادگی کا مثبت پیغام جہیز و بارات کے بغیر سنتِ نبویؐ کے مطابق نکاح نہ دعوتِ طعام، نہ غیر ضروری رسم و رواج؛ سادگی کے ساتھ انجام پایا ایک اور مثالی عقد
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 03, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) شادی بیاہ میں بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات، جہیز اور فضول رسومات کے درمیان کھام گاؤں میں ایک اور مثالی نکاح سادگی اور سنتِ نبویؐ کے مطابق انجام پایا۔ ملکاپور کے ساکن عبدالمقتدر خان ابن فیروز خان کا عقد 2 اکتوبر 2026ء بروز جمعہ بعد نمازِ عصر، کمیونٹی سینٹر (مرکز جماعت اسلامی ہند، کھام گاؤں) میں مرحوم ساجد اللہ خان کی دختر نیک اختر کے ساتھ انجام پایا، جو کھام گاؤں جماعت اسلامی کے سابق مقامی امیر عمیر احمد خان کی بھانجی ہیں۔ اس نکاح کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ تقریب میں نہ جہیز کا لین دین ہوا، نہ بارات لائی گئی اور نہ ہی روایتی دعوتِ طعام کا اہتمام کیا گیا۔ ملکاپور سے ڈاکٹر یاسین صاحب اپنے چند قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ کھام گاؤں تشریف لائے اور دونوں خاندانوں نے غیر ضروری رسم و رواج سے اجتناب کرتے ہوئے سادگی کو ترجیح دی۔ خطبۂ نکاح محمد سمیع صاحب نے پڑھایا، جبکہ مہمانوں کی تواضع صرف شربت سے کی گئی۔ اس موقع پر موجود احباب نے دونوں خاندانوں کو مبارک باد پیش کی اور دولہا و دلہن کے لیے خوش گوار، کامیاب اور بابرکت ازدواجی زندگی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ سادگی اور مسنون طریقۂ نکاح کی یہ مثال معاشرے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ نکاح کو جہیز، بارات، دعوتوں اور غیر ضروری اخراجات سے پاک رکھتے ہوئے بھی اس مبارک موقع کو باوقار اور یادگار بنایا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شادی بیاہ میں فضول خرچی اور غیر ضروری رسم و رواج کے بجائے سنتِ نبویؐ، سادگی اور آسانی کو فروغ دیا جائے۔