میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے مہا نگر پالیکا انتخابات کے تناظر میں امیدواروں ، نوجوان سے امن و سکون کا ماحول بناۓ رکھنے کی دردمندانہ اپیل از قلم محمد سرور شریف ابن یوسف شریف 9960451708
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 13, 2026
0
share
قارئین ہم سب جانتے 15جنوری بروز جمعرات بلدیہ عظمی (مہا نگر پلیکا ) کے لیے امیدواروں کو منتخب کرنے کے ضمن میں ووٹنگ کا دن ہے لہذا الیکشن سے قبل ،ووٹنگ کے روز اور رزلٹ کے دن یعنی 16جنوری بروز جمعہ ہمارے شہر عزیز اور ریاست میں ہر حال میں امن و شانتی قائم رکھنا ہم سب کی اولین اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم سب کی عزت، شہر کی پہچان اور شہریوں کا وقار اسی میں ہے کہ اختلاف کے باوجود صبر، سکون اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ موجودہ مہا نگر پالیکا انتخابات کے موقع پر بلخصوص ووٹنگ کے دن اور رزلٹ کے دن یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کیوں کے ہم نے دیکھا ہے جو برتں جتنے قریب ہوتے ہیں وہی ٹکراتے اور شور کرتے ہیں انتخابات سے قبل، ووٹنگ کے دن اور نتائج کے اعلان کے وقت ضلع انتظامیہ اور محکمۂ پولیس سے بھرپور تعاون کریں کیوں کے یہ ادارے ہماری حفاظت اور نظم و ضبط کے لیے ہوتے ہیں؛ ہم سب کا اخلاقی فرض ہے کہ قانون کی پاسداری کریں اور امن قائم رکھنے میں عملی تعاون دیں۔ انتخابی ماحول اور نتائج کے اعلان کے بعد میں جذبات کا اظہار فطری ہے، مگر دانش مندی اسی میں ہے کہ صبر اور برداشت کو ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ کسی بھی اشتعال انگیزی، افواہ یا اشتعال دلانے والی حرکت سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی روکیں۔ یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہار اور جیت محنت اور مقدر پر منحصر ہوتی ہے۔ نتیجے کی بنیاد پر باہمی تعلقات خراب کرنا یا دشمنی پال لینا نہ عقلمندی ہے اور نہ ہی بحیثیت مسلمان ہمیں یہ عمل زیب دیتا ہے۔ انتخابات کو انتخابات کی حد تک محدود رکھنا ہی دانش مندی ہے۔ لہذا بے جا تناؤ سے اجتناب کریں ضرورت سے زیادہ ٹینشن نہ خود کے لیے بہتر ہے اور نہ قوم و ملت کے لیے۔ غیر ضروری جوش اور اشتعال خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور قوم و ملت و شہر کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان معاشرے کا سرمایہ ہیں۔ان سے گزارش ہے کہ جذباتی ہجوم اور بے مقصد بھیڑ کا حصہ بن کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو ان کے مستقبل اور والدین کے خوابوں کو چکنا چور کردیں ہوش، شعور اور ذمہ داری ہی نوجوانوں کی اصل پہچان ہے۔ جو امیدوار کامیاب ہوں، وہ عاجزی، انکساری اور بردباری کے ساتھ خوشی کا اظہار کریں۔ فتح کا حسن غرور میں نہیں بلکہ خوش اخلاقی اور در گزر میں ہے جو امیدوار کامیاب نہ ہو سکیں، وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ آئندہ پانچ برس انسانیت اور عوامی خدمت میں مصروف رہیں آپ کی یہی مسلسل خدمت عوام کے دلوں میں جگہ بنائیں گی اور ایک دن آپ ضرور کامیاب ہونگے ہمیں امید ہے کہ ہمارے شہر عزیز کے باشعور شہری اور ہماری خوبصورت ریاست مہاراشٹر کے تمام باشندے ہماری اس اپیل کو سمجھتے ہوۓ اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے اور امن و شانتی کے اس پیغام کو ہر فرد تک پہنچائیں گے۔ اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے