اجیت پوار ، اردو دوستی، رواداری اور خلوص کا روشن استعارہ سید حسین اختر
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 28, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) مہاراشٹر راجیہ اردو اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے نائب وزیر اعلیٰ مہاراشٹر اجیت پوار کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجیت پوار مہاراشٹر کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی تاریخ کا ایک ایسا معتبر اور مخلص نام ہیں۔
جن کی خدمات کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ اپنے تاثراتی بیان میں سید حسین اختر نے کہا کہ اجیت پوار محض ایک اعلیٰ منصب پر فائز سیاست داں نہیں بلکہ اقلیتوں کے ہمدرد، مسلمانوں کے بے لوث خیر خواہ، اردو زبان کے سچے دوست اور سیکولر اقدار کے مضبوط علمبردار ہیں۔
قربانی کے مقدس ایام میں جب بعض شر پسند عناصر جانوروں کی آمد و رفت کے نام پر مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ایسے نازک اور کرب ناک لمحات میں اجیت پوار نے جرأت مندانہ اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کا ساتھ دیا اور ظلم و ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر راجیہ اردو اکیڈمی کئی برسوں تک صدر کے بغیر غیر فعال اور خاموش رہی، مگر اجیت پوار نے اردو زبان و ادب سے اپنی قلبی وابستگی کا عملی ثبوت پیش کیا۔ انہوں نے نہ صرف اکیڈمی کو فعال بنانے میں گہری دلچسپی لی بلکہ چیئرمین کی نامزدگی کے عمل میں نہایت اہم، فیصلہ کن اور تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کی ذاتی توجہ، اعتماد اور رہنمائی کے نتیجے میں اکیڈمی کو اہل قیادت میسر آئی اور اردو کے فروغ کی نئی راہیں ہموار ہوئیں۔ سید حسین اختر نے مزید کہا کہ اردو اکیڈمی کے پچاس سالہ جشن کے موقع پر اجیت پوار نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے خاطر خواہ فنڈ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں ریاست بھر میں منعقد ہونے والا تین روزہ عظیم الشان “بہارِ اردو” جشن اردو زبان و تہذیب کے لیے ایک یادگار اور تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس عظیم جشن کی کامیابی میں ان کا خلوص، تعاون اور سرپرستی ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کی شخصیت محبت، رواداری، انصاف اور اردو دوستی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی خدمات کو نہ صرف اردو داں طبقہ بلکہ پورا مہاراشٹر مدتوں یاد رکھے گا، اور آنے والی نسلیں ان کے کردار اور فکر سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔ آخر میں سید حسین اختر نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مہاراشٹر راجیہ اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام منعقدہ تاریخی مشاعرے کی کامیابی پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم ادبی اجتماع کی مکمل تحریری روداد کل ہی اجیت پوار کی خدمت میں پیش کی گئی تھی۔ یہ محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ اردو زبان، اس کی تہذیب اور اس کے محافظین کی ایک زندہ گواہی تھی ، ایک ایسی روداد جو اردو کے خادم اور اردو کے محافظ کے نام پیش کی گئی، اور جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔