کھام گاؤں گرامین میں پانی کا بحران ،نائب سرپنچ کا احتجاج کا انتباہ 26 جنوری کو تحصیل دفتر کے سامنے جمہوری احتجاج کی وارننگ
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 24, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) کھام گاؤں گرامین گرام پنچایت کے نائب سرپنچ محمد ندیم محمد سلیم شیخ نے پینے کے پانی کے سنگین مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 23 جنوری 2026 کو تحصیلدار کھام گاؤں کے نام ایک تحریری عرضداشت پیش کی ہے۔
عرضداشت میں بتایا گیا ہے کہ کھام گاؤں گرامین گرام پنچایت کے دائرۂ اختیار میں آنے والی شہری آبادیوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 35 گاؤں پینے کے پانی کی اسکیم کے تحت ایک پانی کی ٹنکی تعمیر کی گئی تھی، تاہم ناقص تعمیر کے باعث تاحال اس ٹنکی سے پانی کی سپلائی شروع نہیں ہو سکی ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ نائب سرپنچ نے عرضداشت میں یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ تاج نگر علاقے میں موجود کنویں کے ذریعے دیگر آبادیوں کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے، مگر مبینہ طور پر جان بوجھ کر کھام گاؤں گرامین گرام پنچایت کے تحت آنے والے علاقوں تاج نگر، مریم کالونی، دھرم کرانتی نگر سمیت دیگر بستیوں کو اس سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عرضداشت کے ذریعے انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پانی کے اس دیرینہ مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر 26 جنوری 2026 کو تحصیل دفتر کے سامنے جمہوری طریقے سے احتجاج کیا جائے گا، جس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔