رمضان المبارک کی خصوصی آفر نفل کا ثواب فرض کے برابر مضمون نگار محمد سرور شریف ابن یوسف شریف معلم مٶید المسلمین پرائمری اسکول پربھنی 9960451708
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 04, 2026
0
share
قارئین نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کےدوسرے عشرہ کے قیمتی لمحات اپنے اختتام کے سمت رواں دواں ہے اور امت کا ایک بڑا طبقہ عید کی خریداری اور افطار و سحری میں نت نئے پکوانوں کے مزے لینے بازاروں میں نظر آرہا ہے اور رمضان المبارک کے اس موقع پر ان کی نظریں اور کان ان کپڑوں کی دکانوں، چھو ٹی بڑی سیل کی طرف متوجہ ہیں کہ کون سی اسکیم دی جا رہی ہے کتنے ، فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جا رہا ہے ایک پر ایک فری ڈریس کی آفر کس دکان پر چل رہی ہے جبکہ رمضان المبارک میں اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی آفر نفل کا ثواب فرض کے برابر جاری ہے لیکن افسوس کے اس خوشخبری سے امت کا ایک بڑا طبقہ نا آشنا ہے وہیں الحمدللہ اللہ تعالی کی توفیق سے امت کا ایک محدود طبقہ رمضان المبارک کے ان قیمتی لمحات میں اپنے رب اللہ کو راضی کرنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کر رہا ہے۔
اسی پس منظر میں مجھ جیسے کم علم اور کم عمل طالب علم کے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ اللہ تعالی کی جانب سے جاری اس خصوصی آفر سے امت مسلمہ کو واقف کرایا جائے اور انھیں ان نوافل پر عمل کرنے اور ان نمازوں کے ادا کرنے پر حدیث مبارک میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ملنے والے ثواب اور اجر کی خوشخبری سے روشناس کرایا جائے مزید جو لوگ اب تک ان نوافل کے اہتمام سے غافل ہیں وہ اس تحریر و مضمون کو پڑھ کر ان کے فضائل کو جان کر عمل کرنے والے بنیں ان میں عمل کا شوق اور جذبہ پیدا ہو ان مقاصد کے حصول کے لیے تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوا بین ، تحیتہ الوضو ، تحیتہ المسجد ، صلوۃ التوبہ ، صلوۃ الحاجت وغیرہ نفل نمازوں کے جو فضائل احادیث میں بیان کیے گئے ہیں ان احادیث کو مہاراشٹر کی مشہور و معروف شخصیت مفتی عارف صاحب خادم مدرسہ دار العلوم بیڑ کی تحریر کردہ کتاب 12 مہینوں کے شرعی احکام سے نقل کیا جا رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ آپ خود بھی ان نوافل کے پڑھنے کا اہتمام کریں گے اور اپنے اہل خانہ ، افراد خاندان دوست احباب کو بھی اس کی ترغیب دیں گے ( 1 ) نماز تہجد تہجد کی نماز کو نفل نمازوں میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ افضل یہ ہیکہ یہ نماز رات کے آخری حصہ میں صبح صادق سے پہلے دو دو رکعت سے پڑھی جائے حضور اکرم صلی علیہ وسلم اکثر تہجد کی نماز آٹھ رکعتیں پڑھا کرتے تھے بہتر یہ ہے کہ قیام میں قرآن کی زیادہ قرات کی جائے اور رکوع وسجدہ لمبا لمبا کیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرض نماز کے بعد افضل نماز وہ ہے جو رات کے آخری حصہ میں پڑھی جاتی ہے۔ (مسلم شریف ) صحابہ کرام آپس میں ایک دوسرے کو یہ دعا دیا کرتے تھے اللہ تعالی تمہیں صلاۃ الابرار یعنی تہجد کی نماز نصیب فرمائے (اولیاء اللہ کے شب بیداری کی دلچسپ واقعات ، ) ( 2 ) نماز اشراق اشراق کی نماز یہ ہوتی ہے کے فجر کی نماز کے بعد اسی جگہ بیٹھا رہے دنیاوی کاموں میں مصروف نہ ہوں پھر فجر کا وقت ختم ہونے کے پندرہ یا بیسں منٹ بعد دو یا چار رکھتیں پڑھے۔ حدیث شریف میں ہے جس شخص نے فجر کی نماز جماعت میں شریک ہو کر پڑھی پھر سورج نکلنے تک وہیں بیٹھار ہے اللہ تعالی کاذکر کرتا رہا پھر دورکعتیں پڑھے تو اس کیلئے ایک حج وعمرہ کی مانند ثواب ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ثواب پورا پورا ملے گا۔ (ترمذی شریف) ( 3 ) نماز چاشت چاشت کی نماز یہ ہوتی ہیکہ جب سورج اچھی طرح نکل آوے اور اس پر نگاہ نہ جم سکے تو اس وقت نوافل پڑھی جائیں جن کی کم سے کم مقدار دورکعات ہے زیادہ جتنی چاہے پڑھے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہے مجھکو میرے خلیل ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین باتوں کی وصیت کی ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھنے کی ، چاشت کی دورکعات پڑھنے کی اور یہ کہ میں سونے پہلے وتر پڑھوں (مسلم شریف ) ( 4 ) نماز اوابين مغرب کی فرض نماز کے سنتوں کے بعد جو نوافل پڑھی جاتی ہیں انہیں اوا بین کہتے ہیں ان کی کم از کم تعداد چھ رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ بیسں ( 20) رکعات ہیں ایک روایت میں چھے رکعات کی صراحت اس طرح ہے۔ نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے مغرب کے بعد چھے رکھتیں اس طرح پڑھیں کہ ان کے درمیان کوئی بیہودہ بات نہ کی تو وہ اس کیلئے ( ثواب میں ) بارہ برس کی (نفلی) عبادت کے برابر کر دی جائیں گی۔ ( ترمذى شريف أبواب الصلوة عن رسول الله علي باب ماجاء في فضل التطوع است ركعات بعد المغربي) ( 5 ) نماز توبه صلوۃ التوبہ یہ ہے کہ جس شخص سے جانے انجانے میں صغیرہ کبیرہ کوئی سا گناہ سرزد ہو گیا ہواسے چاہئے کہ وہ اچھی طرح وضو کر کے دورکعت نفل نماز پڑھکر سچے دل سےاللہ تعالٰی سے معافی مانگے، ترندی شریف کی ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالٰی اس کو معاف فرماہی دیتے ہیں ۔ (ابن ماجہ) ( 6 ) نماز تحية الوضوء 1 ) حدیث شریف میں ہے جو مسلمان ( جب ) بھی اچھی طرح وضو کرے اور وضو کے بعد حضور قلب کے ساتھ دو رکعت نفل پڑھے تو اس کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ( 7 ) نماز تحية المسجد (۲) بخاری شریف کی روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آوے تو اس کو چاہئے کہ بیٹھنے سے پہلے دورکعت نماز پڑھے۔ ( ترمذی ابواب الصلوة باب ماجاء اذا دخل احدكم المسجد فلير كع ركعتين ) ( 8 ) صلوة الحاجت نماز حاجت یہ ہیکہ جب بھی کوئی ضرورت کوئی مسئلہ پیش ہو اس وقت ایسے شخص کو چاہئے کہ اچھی طرح وضو کر کے دورکعت نفل نماز پڑھکر اللہ کی حمد و ثنا کرے اور حدیث میں مذکور {لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيم ) والی مکمل دعا مانگے ان شاء الله اللہ تعالٰی اس کی وہ ضرورت ضرور پوری فرما دیں گے۔ ( یہ دعا مسنون دعاؤں میں موجود ہے)۔ (ابن ماجه باب اقامة الصلوة باب ماجاء في صلاة الحاجة) نیز ان تمام نفلی نمازوں کو صبح صادق سے لیکر سورج نکلنے تک عصر کے بعد سے سورج غروب ہونے تک نصف النہار استواء کے وقت جس کو عرف عام میں زوال کہتے ہیں پڑھنا جائز نہیں ہے نیز ان نمازوں کے علاوہ فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کی سنت و نوافل کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ان کے علاوہ بھی دو دو رکعت سے دس ہیں، پچاس، سو، جتنی بشاشت قلب سے نفل نماز پڑھی جا سکتی ہو پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ ان دنوں میں نفل کا مقام بھی فرض کے برابر کر دیا گیا ہے رمضان ہمیں سستی اور غفلت چھوڑ کر محنت، استقامت اور عبادت کی طرف بلاتا ہے۔ جب دنیاوی آفرز کے لیے ہم اتنے متوجہ ہوتے ہیں تو کیا یہ مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم آفر کی طرف بھی بھرپور توجہ دیں؟ آئیے! رمضان کے ان بقیہ ایام کو نوافل کی کثرت، خشوع و خضوع اور اخلاص کے ساتھ گزاریں۔ خود بھی عمل کریں اور اپنے اہلِ خانہ، دوست احباب کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان بابرکت لمحات کی قدر کرنے، نوافل کے ذریعے اپنا خصوصی قرب حاصل کرنے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بلخصوص مجھ سیاہ کار عاجز کو بھی ان نوافل کا ذوق صحیح اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)