پوسد ، جی۔این۔آزاد اُردو ڈی ایڈکالج میں مشقی اسباق سیشن اختتام پذیر زیر تربیت اساتذہ نے تدریس کا عملی تجربہ حاصل کیا
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 03, 2026
0
share
کھام گاؤں(واثق نوید) پوسد کے معروف تعلیمی ادارے غلام نبی آزاد اردو ڈی ایڈ کالج میں ڈی۔ایل۔ایڈ (D.El.Ed.) کورس کے زیرِ تربیت متعلمین کے مشقی اسباق یعنی پریکٹس ٹیچنگ سیشن نہایت جوش و خروش اور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
تدریسی میدان میں عملی تجربہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور یہ سیشن زیر تربیت متعلمین کے لیے شخصیت سازی اور پیشہ ورانہ تربیت کا بہترین موقع ثابت ہوا۔
اس عملی پروگرام کے لیے شہر کے متعدد معروف تعلیمی اداروں نے تعاون فراہم کیا۔ ان میں ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، آخرت نگر ، نگر پریشد اردو پرائمری اسکول نمبر تین، رحمت نگر ، منوہر راؤ نائیک اردو پرائمری اسکول، مدھوکر نگر اور جی این آزاد اردو پرائمری اسکول، پوسد شامل ہیں۔ متعلقہ اداروں کے سربراہان اور اسکولوں کے صدر مدرسین نے نہ صرف اجازت فراہم کی بلکہ بھرپور تعاون بھی پیش کیا جس کے باعث زیرِ تربیت اساتذہ کو عملی تدریس کا موقع میسر آیا۔ کالج کی جانب سے تمام تعاون کرنے والے اسکولوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ پریکٹس ٹیچنگ کے دوران ہر طالبِ علم نے اپنے مضمون کی باریک بینی سے منصوبہ بندی کی۔ محض کتابی معلومات تک محدود رہنے کے بجائے تدریسی معاون مواد (Teaching Aids)، جدید تدریسی اسالیب اور مؤثر سوال و جواب کی تکنیکوں کے ذریعے اسباق کو دلچسپ اور بامعنی بنایا گیا۔ خصوصاً طلبہ کی فعال شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیاجس سے زیرِ تربیت اساتذہ کے اعتماد اور اسٹیج ڈیرنگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔تقریباً ایک ماہ تک چلنے والے اس سیشن کے کامیاب انعقاد کے پس منظر میں ادارے کے پرنسپل خان حسنین عاقب کی مضبوط قیادت اور سپروائزر نثار احمد خان کی مؤثر منصوبہ بندی کا کلیدی کردار رہا۔ پریکٹس ٹیچنگ کے آغاز سے قبل جناب نثار احمد خان، لکچرر تابش علی اور لکچرر ایبان احمد نے زیرِ تربیت اساتذہ کو جماعتی نظم و ضبط، بلیک بورڈ رائٹنگ اور کلاس روم مینجمنٹ کے حوالے سے جامع رہنمائی فراہم کی۔ خصوصی طور پر ان تینوں لکچررز نے بطور مشاہدِ اسباق تقریباً ایک مہینے تک شخصی طور پر اپنی متعین کردہ ہر اسکول میں حاضر رہ کر بلاناغہ روزانہ اسباق کے مکمل اوقات تک اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے زیر تربیت معلمین کی شخصیت سازی میں اپنا بہترین کردار نبھایا ۔ غیر تدریسی عملے نے بھی انتظامی امور میں بھرپور تعاون دیا۔ اس سیشن کی اختتامی تقریب کے موقع پر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’محض نظری تعلیم کافی نہیں بلکہ حقیقی چیلنجز کا ادراک اُس وقت ہوتا ہے جب استاد عملی طور پر طلبہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔‘‘ کالج کے طے کردہ پروگرام کے مطابق اس تربیتی سیشن کے ذریعے طلبہ اساتذہ کو جماعتی نظم و نسق، طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے اور مؤثر ابلاغی مہارتیں سیکھنے کا بیش بہا تجربہ حاصل ہوا جو مستقبل میں ان کے تدریسی سفر میں معاون ثابت ہوگا۔