صلہ رحمی کا عملی مظاہرہ — زکوٰۃ سے قرض دار رشتہ داروں کی مدد از قلم :- نجیب الرحمن خان
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 26, 2026
0
share
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی و معاشی ذمہ داریوں کو بھی واضح کرتا ہے۔ زکوٰۃ صرف انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا مضبوط نظام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف متعین فرما دیے ہیں تاکہ دولت کا بہاؤ معاشرے کے کمزور طبقات تک منظم انداز میں پہنچے۔
📌 زکوٰۃ کی آٹھ مدیں اور قرض دار کی رہائی:- اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں سورہ التوبہ آیت 60 میں ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین ہیں، جن میں ایک اہم مد "وَ الۡغٰرِمِیۡنَ" یعنی قرض داروں کی مدد کرنے میں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جائز ضرورت کے تحت قرض میں مبتلا ہو گئے ہوں اور ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خاندان اور برادری کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ منظم طریقے سے ایسے مستحق رشتہ دار پر صرف کریں جو قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، تاکہ وہ دوبارہ باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے۔ 📌 صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق:- اسلام نے رشتہ داری کو محض نسبی تعلق نہیں بلکہ دینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ 📌 قرآنی تعلیم :- اللہ تعالیٰ سورۃ النساء آیت 1 میں فرماتے ہیں: ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞۔ ترجمہ: " اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دُوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلّقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو- یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے" اسی طرح سورۃ النحل آیت 90 میں ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِيۡتَآىِٕ ذِى الۡقُرۡبٰى ۞۔ ترجمہ: "اللہ عدل اور احسان اور صلہء رحمی کا حکم دیتا ہے۔ (رشتہ داروں کے ساتھ) " اس آیت میں تین بنیادی اصول بیان ہوئے: ۱) عدل ۲) احسان ۳) رشتہ داروں کو دینا/ صلہ رحمی۔ یہ تینوں مل کر ایک مضبوط، ہمدرد اور باوقار معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ 📌 احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں :- نبی کریم ﷺ نے رشتہ داری جوڑنے پر خاص زور دیا۔ صحیح مسلم میں ارشاد ہے: "رشتے داروں سے تعلقات قائم رکھو، ان کے دکھ سکھ میں شریک ہو، مالی و جسمانی مدد کرو، اور اگر وہ صلہ رحمی نہ بھی کریں تب بھی تم صلہ رحمی کرو۔" اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کو پسند ہو کہ اس کا رزق کشادہ ہو اور عمر میں برکت ہو تو وہ صلہ رحمی کرے۔" 📌 حضرت ابو طلحہؓ کا عملی نمونہ :- حضرت ابو طلحہؓ کا واقعہ اس سلسلے میں روشن مثال ہے۔ جب سورۃ آل عمران آیت نمبر 92 نازل ہوئی: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ ۞۔ ترجمہ: "تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ﴿خدا کی راہ میں﴾خرچ نہ کر دو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا" تو انہوں نے اپنا محبوب باغ اللہ کی راہ میں پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مشورہ دیا کہ اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رشتہ داروں پر خرچ کرنا دوہرا اجر رکھتا ہے: ۱) صدقہ کا ثواب ۲) صلہ رحمی کا اجر 📌 خاندان کی اجتماعی ذمہ داری:- شریعتِ الٰہی ہر خوشحال فرد کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ضرورت مند افراد کو بھوک، محتاجی اور جہالت میں نہ چھوڑے۔ ایک خاندان کی بدترین حالت یہ ہے کہ: ۱) ایک فرد آسائش میں ہو۔ ۲) دوسرا قرض اور محتاجی میں مبتلا ہو شریعت کے مطابق غریب رشتہ دار کا پہلا حق اپنے خوشحال رشتہ داروں پر ہے۔ اگر زکوٰۃ کو منظم انداز میں استعمال کیا جائے تو: ۱) معاشی خوشحالی پیدا ہوگی ۲) معاشرتی محبت بڑھے گی ۳) اخلاقی پاکیزگی نصیب ہوگی 📌 زکوٰۃ کے ذریعے قرض دار رشتہ دار کی منظم مدد — عملی طریقہ :- ۱) خاندان کے صاحبِ نصاب افراد اپنی زکوٰۃ کا حساب درست طور پر نکالیں۔ ۲) مستحق رشتہ دار کی مالی حالت کی تحقیق کی جائے کہ وہ واقعی "غارم" (قرض دار) ہے۔ ۳) تمام افراد باہمی مشورے سے زکوٰۃ جمع کریں۔ ۴) قرض کی مکمل یا جزوی ادائیگی منظم انداز میں کی جائے۔ ۵) حتی الامکان قرض براہِ راست قرض خواہ کو ادا کیا جائے۔ ۶) کوشش کی جائے کہ مستحق فرد کو آئندہ خود کفیل بنانے کے لیے مشورہ اور رہنمائی بھی دی جائے۔ 📌 صلہ رحمی کی نمایاں صورتیں :- ۱) برادری کو برائی سے روکنا اور نیکی کی طرف بلانا۔ ۲) خوشی و غمی میں شریک ہونا۔ ۳) جان، مال اور عزت کا احترام کرنا۔ ۴) غیبت اور بدگمانی سے بچنا۔ ۵) مقروض افراد کو قرض سے نجات دلانا۔ 📌 اختتامیہ:- زکوٰۃ کا اصل مقصد صرف وقتی امداد نہیں بلکہ باعزت بحالی ہے۔ جب رشتہ دار اپنی زکوٰۃ منظم انداز میں جمع کر کے کسی قرض دار رشتہ دار کو قرض سے نجات دلاتے ہیں تو: ۱) ایک فرد باعزت زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ۲) خاندان میں محبت اور اتحاد بڑھتا ہے۔ ۳) معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ ۴) اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ اجتماعی شعور ہے جس سے امت میں حقیقی اخوت، مساوات اور رحمت کا نظام قائم ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مال کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 📌 سماج کے تمام خاندانوں کے نام دردمند اپیل:- اے میرے عزیزو اور بزرگو! آج ہم سب ایک ایسے دینی اور خاندانی فریضے کے سامنے کھڑے ہیں جس کا تعلق صرف ایک فرد کی مدد سے نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کی عزت، یکجہتی اور آخرت کی کامیابی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو محض انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب ہمارے اپنے خاندان میں کوئی فرد قرض کے بوجھ تلے دبا ہو تو سب سے پہلا حق اسی کا ہے کہ ہم اس کا سہارا بنیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید نے زکوٰۃ کے مصارف میں قرض دار کو شامل کر کے ہمیں واضح پیغام دیا ہے کہ ایسے افراد کو سہارا دینا اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ اور رسولِ اکرم ﷺ نے صلہ رحمی کو رزق میں برکت اور عمر میں اضافہ کا سبب قرار دیا ہے۔ اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔ 👈 یہ وقت تنقید کا نہیں، تعاون کا ہے۔ 👈 یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، قدم بڑھانے کا ہے۔ 👈 یہ وقت بکھرنے کا نہیں، منظم ہونے کا ہے۔ آئیں ہم سب: 👈 اپنی اپنی زکوٰۃ کا درست حساب کریں، 👈باہمی مشورے سے ایک فرد یا کچھ افراد کو ذمہ دار بناکر ان کے پاس زکوٰۃ ، صدقات،اعانت اورعشر جمع کریں ۔ 👈 اعتماد کے ساتھ زکوٰۃ جمع کریں، 👈 اور اپنے قرض دار رشتہ دار کو باعزت طور پر قرض سے نجات دلائیں۔ اگر خاندان کے دس افراد مل جائیں تو کسی ایک کی پریشانی ختم ہو سکتی ہے۔اوراگر سب مل کر اخلاص سے قدم اٹھائیں تو ایک زندگی سنور سکتی ہے، ایک گھر آباد ہو سکتا ہے، ایک نسل محفوظ ہو سکتی ہے۔ سوچئے!۔۔۔۔۔ کل قیامت کے دن اگر اللہ تعالیٰ پوچھے کہ تمہارے خاندان میں ایک شخص قرض کے بوجھ تلے دبا تھا، تم آسائش میں تھے، تم نے کیا کیا؟ تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟ آئیں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ: 👈 ہمارے خاندان میں کوئی بھوکا نہیں رہے گا، 👈 کوئی قرض کے بوجھ سے ٹوٹا ہوا نہیں رہے گا، 👈کوئی تعلیم و علاج سے محروم نہیں رہے گا، 👈 اور ہم سب ایک دوسرے کے سچے خیر خواہ بن کر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتحاد، اخلاص اور صحیح نظم کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے مال میں برکت اور ہمارے خاندان میں محبت پیدا فرمائے۔(آمین)