ناگپور ہائی کورٹ سے عبدالناظم کو بڑی راحت، ایف آئی آر منسوخ
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 24, 2026
0
share
کھام گاؤں(واثق نوید)ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ایم آئی ایم کے سابق گروپ لیڈر عبدالناظم کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں بڑی قانونی راحت فراہم کی ہے۔ یہ شکایت بی جے پی لیڈر و سابق رکنِ پارلیمنٹ نونیت رانا کی جانب سے درج کرائی گئی تھی۔
معاملہ 2019 کے اسمبلی انتخابات کے دوران اچلپور حلقہ میں ایک انتخابی جلسہ سے متعلق تھا، جہاں عبدالناظم پر مبینہ طور پر توہین آمیز اور ذات پات سے متعلق قابلِ اعتراض ریمارکس کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس بنیاد پر پولیس نے تعزیراتِ ہند کی دفعات 500 (ہتکِ عزت) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے ساتھ ساتھ ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شکایت میں درج الزامات ایٹروسٹی ایکٹ کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے اور یہ بیان انتخابی سیاسی ماحول کا حصہ تھا۔ جسٹس پروین پاٹل نے مقدمہ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ایٹروسٹی قانون لاگو کرنے کے لیے ضروری قانونی عناصر واضح طور پر ثابت نہیں ہوتے، لہٰذا مقدمہ جاری رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد امراوتی ضلع سمیت سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ آئندہ انتخابی تقاریر سے متعلق مقدمات میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم شکایت کنندہ فریق کو اعلیٰ عدالت میں اپیل کا حق حاصل ہے۔