پونہ، نصابی ورکشاپ کے بعد شعری نشست، اردو کے فروغ کی درخشاں مثال بال بھارتی کی درسی سرگرمیوں کے ساتھ ادبی روایت کا حسین امتزاج
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 11, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) مہاراشٹر اسٹیٹ بیورو آف ٹیکسٹ بک پروڈکشن اینڈ کرکولم ریسرچ (بال بھارتی) میں درسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی آبیاری کا جو خوبصورت اور بامعنی سلسلہ جاری ہے، وہ بلاشبہ قابلِ ستائش اور ناقابلِ فراموش ہے۔
بال بھارتی کے اردو افسر خان نوید الحق خان کی زیرِ نگرانی غیر رسمی مگر مؤثر انداز میں نہ صرف نصابی کتب کی تیاری کا عمل جاری ہے بلکہ اسی کے پہلو بہ پہلو اردو زبان و ادب کی خدمت بھی خوش اسلوبی سے انجام دی جا رہی ہے۔
ان دنوں بال بھارتی، پونہ میں جماعت ششم کی نئی زباندانی کتاب کے مسودے پر نظرِ ثانی اور ماہرین کی آراء حاصل کرنے کے لیے مہاراشٹر بھر سے نامور ماہرینِ تعلیم، تجربہ کار اساتذہ اور اہلِ قلم کو مدعو کر کے دو روزہ نصابی ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہے۔ اس ورکشاپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شریک ہونے والے کئی اساتذہ نہ صرف تدریسی میدان میں سرگرم ہیں بلکہ ادبی و صحافتی خدمات کے ذریعے بھی اردو زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں شعرا کی بڑی تعداد شامل ہے۔
خان نوید الحق خان کی یہ خوش آئند اور قابلِ تقلید روایت رہی ہے کہ روزانہ صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ورکشاپ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بال بھارتی کی عظیم الشان عمارت میں مقیم اساتذہ اور اہلِ قلم کے لیے ادبی نشست یا مشاعرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اسی تسلسل میں 10 فروری کو جماعت ششم کی ورکشاپ کے بعد مغرب کے بعد ایک شاندار شعری نشست منعقد کی گئی، جو بال بھارتی پونہ کے عظیم و تاریخی شیواجی مہاراج ہال میں اردو کے مایہ ناز خادم خان نوید الحق خان کے اہتمام سے منعقد ہوئی۔
اس باوقار ادبی نشست کی صدارت برصغیر کے معروف انشائیہ نگار اسد اللہ خان نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بال بھارتی کے اردو افسر خان نوید الحق خان، معاون اردو افسر ناصر شیخ، لسانی کمیٹی کے صدر یاسین اعظمی، نامور ادیب و نقاد ناصرالدین انصار، ماہرِ تعلیم ملک نظامی اور خالد سید موجود تھے۔ نشست کی نظامت لسانی کمیٹی کے رکن ساحر آفتاب (راجو قریشی) نے نہایت سلیقہ مندی اور دلنشیں انداز میں انجام دی۔ شعری نشست میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر نعیم فراز، اسماعیل راز، شہروز خاور، وجاہت عبدالستار، جاوید احمد جاوید، اسد تابش، اخلاق نظامی، اسماعیل گوہر، ساجد جمال اور طلحہٰ صدیقی نے اپنا منتخب کلام پیش کر کے سامعین سے بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔ نشست میں خواتین کی معقول اور خوش آئند شرکت نے محفل کے وقار اور دلکشی میں مزید اضافہ کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں اسد اللہ خان نے بال بھارتی کی نصابی ورکشاپ کے دوران منعقد کی جانے والی اس ادبی نشست کو اردو زبان کے فروغ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا اور مہاراشٹر میں اردو ادب کو نئی توانائی عطا کرنے والی اس بہترین روایت کے آغاز اور تسلسل پر خان نوید الحق خان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ یہ ادبی سلسلہ آئندہ بھی اسی جوش، جذبے اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ بال بھارتی پونہ میں درسی اور ادبی سرگرمیوں کا یہ حسین امتزاج یقیناً اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک روشن مثال اور اہلِ علم و قلم کے لیے نہایت حوصلہ افزا پیغام ہے۔