کھام گاؤں، انسانیت کی شاندار مثال ،51 یونٹ خون جمع تھیلیسیمیا کے مریض اویس کے لیے خون عطیہ کیمپ کا انعقاد
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 08, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) انسانی ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کی روشن مثال پیش کرتے ہوئے کھام گاؤں میں تھیلیسیمیا جیسی جان لیوا بیماری میں مبتلا مریض اویس کے لیے ایک خصوصی خون عطیہ کیمپ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔
اس بامقصد کیمپ کا بنیادی مقصد مریض کو بروقت اور محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا، جس میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے کُل 51 یونٹ خون عطیہ کیا۔ یہ خون عطیہ کیمپ سائی جیون بلڈ بینک کے باہمی تعاون سے کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جب کہ اس پوری انسانیت نواز مہم کی غازی فاؤنڈیشن نے نہ صرف رہنمائی کی بلکہ عملی تعاون کے ذریعے اسے ایک مثالی سماجی خدمت میں تبدیل کر دیا۔ غازی فاؤنڈیشن کے صدر جواد افضل خان، سیکریٹری دادو بیگ، نائب صدر ببلو قادری کے علاوہ عمران خان، ظفر خان، محمد میمن، ابو طالب، حافظ عرباز اور دیگر اراکین و خیرخواہوں کی انتھک محنت اور لگن اس کیمپ کی کامیابی میں کلیدی ثابت ہوئی۔ منتظمین کی منظم حکمتِ عملی اور رضاکاروں کی فعال شرکت نے اس پروگرام کو قابلِ تقلید بنا دیا۔ اس موقع پر غازی فاؤنڈیشن کے سیکریٹری دادو بیگ نے خون عطیہ کرنے والے تمام حضرات کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’خون عطیہ کرنے والے درحقیقت زندگی عطیہ کرتے ہیں، اور انہی کے جذبۂ ایثار کی بدولت تھیلیسیمیا کے مریضوں کو نئی امید اور نئی زندگی ملتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غازی فاؤنڈیشن آئندہ بھی اویس اور دیگر تھیلیسیمیا مریضوں کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ کیمپ کے اختتام پر غازی فاؤنڈیشن کی جانب سے سائی جیون بلڈ بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا، جو مسلسل تھیلیسیمیا مریضوں کے لیے خون کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرتا آ رہا ہے اور سماجی خدمت کے ایسے پروگراموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ آخر میں غازی فاؤنڈیشن کے صدر جواد افضل خان نے معاشرے کے تمام طبقات سے پُرزور اپیل کی کہ وہ خون عطیہ جیسے عظیم انسانی فریضے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تاکہ ضرورت مند مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ بلاشبہ یہ خون عطیہ کیمپ کھام گاؤں کے لیے ایک مثالی، قابلِ ستائش اور تقلید کے لائق سماجی اقدام ثابت ہوا۔