ایولہ کے حقیقی محب اردو کفایت اللہ کی خدمات کو ہمارا سلام !! اردو کے سچّے خادم نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔۔۔۔۔۔!!! از قلم:مومن انیس الدین خالد،بیڑ(مہاراشٹر) 9325301030
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 22, 2026
0
share
قلم کار :مومن انیس الدین خالد،بیڑ
ایولہ کی سرزمین ایک بار پھر سوگوار ہے۔ اس خاموش مگر باوقار بستی نے گزشتہ دنوں ایک ایسے درویش صفت انسان کو کھو دیا جس نے اپنی پوری زندگی علم، دین اور اردو زبان کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ کفایت اللہ سراج الدین فاروقی، جنہیں اہلِ ایولہ محبت سے “کفایت بھیّا” کے نام سے یاد کرتے تھے، اب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی یادیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی خدمت کا چراغ اور اردو سے ان کی بے لوث محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آپکی جنازہ نماز آپکے برادرِصغیر،غربید مرکزمسجد مالیگاؤں کے امام مولانا مختار صاحب نے ادا فرمائی۔آپ کی تدفین ایولہ باہر کی مسجد سے متصل بڑا قبرستان میں بارہ فروری جمعرات کو دوپہرساڑھے تین بجے عمل میں آئی۔جس میں سینکڑوں سوگواروں نے شرکت فرماکر آپ کے حق میں دعاء مغفرت فرمائی۔ سن1935 میں مالیگاؤں کے پڑوسی شہر ایولہ کے ایک علمی اور متوسط گھرانے میں آنکھ کھولنے والے کفایت بھیّا نے بچپن ہی سے دینداری، سادگی اور محنت کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔ والدین کی صالح تربیت نے ان کی شخصیت میں وہ نکھار پیدا کیا جس نے آگے چل کر انہیں ایک مثالی انسان بنا دیا۔ کم عمری میں ہی کلامِ الٰہی کے آٹھ نو پارے اپنے سینے میں محفوظ کرلینا ان کے شغفِ دین کا واضح ثبوت تھا۔ یہی تعلقِ قرآن بعد میں انہیں شہر کی قدیم اور معروف ملّار حاجی مسجد کی امامت و خطابت تک لے آیا، جہاں تقریباً پچاس برس تک انہوں نے محراب و منبر کی ذمہ داری نہایت اخلاص، وقار اور ثابت قدمی کے ساتھ نبھائی۔ ان کی آواز میں سوز بھی تھا اور اثر بھی، ان کے خطبات میں نصیحت بھی تھی اور دردِ ملت بھی۔ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی تنظیمی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے جمعیت العلماء ہند (ارشد مدنی گروپ) کی جانب سے انہیں مقامی صدارت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ عہدہ ان کے لیے اعزاز نہیں بلکہ امانت تھا، جسے انہوں نے تاحیات نہایت دیانت اور استقامت کے ساتھ نبھایا۔ اختلاف کے ماحول میں بھی اعتدال، اور مشکل حالات میں بھی حوصلہ ان کا خاص وصف تھا۔ تاہم ان کی سب سے نمایاں شناخت اردو زبان سے ان کا والہانہ عشق تھا۔ 1959 سے لے کر 2020 کے لاک ڈاؤن تک بلا ناغہ ممبئی سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو اخبارات (انقلاب،اردو نیوز،اردو ٹائمز)کی ترسیل کو انہوں نے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا تھا۔ صبح سویرے اخباروں کے بنڈل سنبھالے ان کا سایہ گلیوں میں دکھائی دیتا تو گویا ایولہ میں اردو کی صبح طلوع ہوجاتی۔ تقریباً اکسٹھ برس تک انہوں نے نہ صرف اپنے لیے حلال روزی کا انتظام کیا بلکہ شہر کے اردو داں طبقے کی علمی و فکری پیاس بھی بجھاتے رہے۔ ان کے ہاتھوں سے اخبار وصول کرنا صرف ایک لین دین نہیں بلکہ ایک تہذیبی رشتہ تھا۔ پھر وہ آزمائش کا دور آیا جب لاک ڈاؤن کے سبب شہر کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ ناساز طبیعت نے انہیں مزید کمزور کردیا اور یوں اخبارات کی وہ باقاعدہ ترسیل بند ہوگئی جو برسوں سے ایولہ کی شناخت بن چکی تھی۔ مگر اس بندش نے یہ احساس اور بھی گہرا کردیا کہ کفایت بھیّا محض اخبار فروش نہیں تھے، وہ ایک فکری پل تھے، ایک تہذیبی سلسلے کی کڑی تھے۔ ان کے بعد ایولہ کے غیرت مند مسلمان روزنامہ اردو اخبارات کا اسی شدت سے انتظار کرتے رہے جیسے کوئی بچھڑا ہوا یار واپسی کی امید میں آنکھیں بچھائے بیٹھا ہو۔ کبھی کبھار مالیگاؤں سے آنے والے اردو اسکولوں کے اساتذہ اپنے ٹفن کے ساتھ اخبار بھی لے آتے تو اہلِ شہر انہی کے توسط سے مطالعے کی پیاس بجھاتے۔ یہ منظر خود اس بات کی گواہی ہے کہ کفایت بھیّا نے صرف اخبار نہیں بانٹے، انہوں نے شعور بانٹا، وابستگی بانٹی اور زبان سے محبت کا درس دیا۔ نوے برس کی طویل زندگی میں باسٹھ سال اردو کی خدمت میں گزار دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ استقامت، یہ خاموش جہاد، یہ بے لوث مشن آج کے دور میں نایاب ہے۔ انہوں نے کبھی شہرت نہیں چاہی، کبھی اعزاز کی طلب نہیں کی، مگر آج ان کی رحلت نے انہیں وہ مقام دے دیا ہے جو بڑے بڑے خطیبوں اور دانشوروں کو نصیب نہیں ہوتا۔ ایولہ کی گلیاں، ملّار حاجی مسجد کا محراب، اور صبح کی وہ خاموش ساعتیں ان کے قدموں کی آہٹ کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ کفایت اللہ سراج الدین فاروقی کا وصال دراصل ایک عہد کا اختتام ہے، مگر ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ خدمت کا راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اگر اخلاص کے ساتھ طے کیا جائے تو وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی، سماجی اور لسانی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔(آمین)۔