بمبئی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں غیر تدریسی عملے کی بھرتی کی راہ ہموار ریاستی تعلیمی ڈائریکٹر کا 28 مئی 2025 کا خط ۔منسوخ، منظور شدہ اسامیوں پر تقرری کا اختیار برقرار
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 26, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے میں مہاراشٹر کے اقلیتی (الپ سنکھیک) تعلیمی اداروں کو بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے ریاستی تعلیمی ڈائریکٹر (ثانوی و اعلیٰ ثانوی)، پونے کی جانب سے 28 مئی 2025 کو جاری کردہ پابندی نامہ منسوخ کر دیا ہے۔
عدالت کے اس حکم کے بعد اقلیتی اداروں میں غیر تدریسی (شکشکیتر) عملے کی بھرتی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومتِ مہاراشٹر کے 4 اپریل 2025 کے سرکاری فیصلے کے تحت منظور شدہ اسامیوں پر تقرری کا اختیار برقرار ہے، لہٰذا ڈائریکٹر تعلیم کو اس کے برخلاف کوئی پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منظور شدہ آسامیوں پر کی گئی تقرریوں کو باقاعدہ منظوری دی جائے اور متعلقہ ملازمین کے نام شالارتھ نظام میں درج کرکے انہیں آئی ڈی جاری کی جائے۔ واضح رہے کہ ریاستی تعلیمی ڈائریکٹر کی جانب سے 28 مئی 2025 کو جاری کردہ خط میں اقلیتی تعلیمی اداروں میں غیر تدریسی عملے کی بھرتی پر عارضی روک لگائی گئی تھی، جس کے باعث ریاست بھر کے متعدد ادارے انتظامی بحران سے دوچار ہو گئے تھے۔ اس اقدام کے خلاف مختلف اقلیتی تعلیمی تنظیموں اور اداروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس رِٹ پٹیشن (نمبر 8174/2025) میں ودربھ اقلیتی تعلیمی تنظیم، اکولہ کے صدر اسحاق راہی، داتا مائناریٹی ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن اکولہ کے سیکریٹری محمد فاروق، ملت ایجوکیشن سوسائٹی ضلع ایوت محل کے محمد الیاس، مولانا عبدالکلام آزاد ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی دھاڑ ضلع بلڈانہ کے ریاض سوداگر، شمع سارواجنک سنستھا کڑمبھ ضلع ایوت محل کے ڈاکٹر ابرار، راجہ ایجوکیشن و بہبودیشی سنستھا پیپل گاؤں راجہ تعلقہ کھام گاؤں ضلع بلڈانہ کے خان راہل خان سمیت دیگر اقلیتی اداروں کے منتظمین شامل تھے۔ عرضی گزاران نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈائریکٹر کا خط حکومتی فیصلے سے متصادم اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کے خلاف ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ ہائی کورٹ کے ناگپور بینچ میں سماعت کے بعد معزز عدالت نے 23 فروری 2026 کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ جب حکومت اس معاملے میں واضح پالیسی جاری کر چکی ہے تو محکمہ تعلیم اس کے برخلاف ہدایات جاری نہیں کر سکتا۔ عدالت نے ڈائریکٹر کے 28 مئی 2025 کے خط کو غیر قانونی اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ فیصلے کے بعد اقلیتی تعلیمی اداروں میں جونیئر کلرک، سینئر کلرک، ہیڈ کلرک، مکمل وقتی لائبریرین، لیبارٹری اسسٹنٹ اور دیگر غیر تدریسی عہدوں پر تقرری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے غیر تدریسی ملازمین کے لیے بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکم ریاست بھر کے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں پر لاگو ہوگا اور اس سے انتظامی امور میں درپیش رکاوٹیں دور ہونے کی توقع ہے۔