غنی غازی کی کتاب کو ریاستی اعزاز مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کا سال 2023 کا انعام
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 03, 2026
0
share
کھام گاؤں(واثق نوید) ضلع بلڈھانہ کے معروف ادیب، صحافی اور افسانہ نگار غنی غازی کی افسانچوں پر مشتمل کتاب "کوڑے" کو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی (حکومتِ مہاراشٹر) کی جانب سے سال 2023 کے ادبی انعام کے لیے منتخب کیا جانا نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ضلع کے لیے باعثِ فخر ہے۔
غنی غازی، جو شب نور اردو پرائمری اسکول، لشکریہ نور بانو ہائی اسکول اینڈ محمد شریف جونیئر کالج، لکھن واڑہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں،
عرصۂ دراز سے ادب و صحافت میں سرگرم ہیں۔ ان کی تصنیف "کوڑے" میں شامل افسانچے عصری زندگی کے مسائل، سماجی ناہمواریوں اور انسانی جذبات کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں، جس پر انہیں ریاستی سطح کا یہ باوقار انعام عطا کیا گیا ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں سے اکیڈمی کی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں اور متعدد منصوبے و کتابی انعامات التوا میں پڑے ہوئے تھے۔ تاہم چیئرمین کی حیثیت سے سید حسین اختر کی تقرری کے بعد اکیڈمی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ سید حسین اختر نے منصب سنبھالتے ہی ،زیرِ التواء کتابی انعامات اور اعزازات کے فیصلوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کروایا۔ ادبی سرگرمیوں، سیمیناروں اور مشاعروں کی بحالی کے اقدامات کیے۔ ضابطہ جاتی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عملی حکمتِ عملی اپنائی۔ اردو ادیبوں، شاعروں اور قلم کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے شفاف طریقۂ کار متعارف کرایا۔ انہوں نے اکیڈمی کے ایگزیکٹیو آفیسر شعیب ہاشمی کے ساتھ قریبی تال میل رکھتے ہوئے ادارے کے تمام زیرِ التواء منصوبوں میں تیزی لائی، جس کے نتیجے میں سال 2023 کے کتابی انعامات کا باضابطہ اعلان ممکن ہو سکا۔ ادبی حلقے اس پیش رفت کو اکیڈمی کی نئی فعالیت اور سنجیدہ قیادت کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔ اسی فعال قیادت کے سبب ضلع بلڈھانہ کے لکھن واڑہ کے سپوت غنی غازی کے نام کا اعلان بھی عمل میں آیا، جس پر مقامی ادبی و سماجی شخصیات نے چیئرمین سید حسین اختر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے اردو ادب کے لیے نیک شگون قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ غنی غازی اس سے قبل بھی صحافتی خدمات، ادبی تصانیف اور بچوں کے ادب پر نمایاں کام کے اعتراف میں مختلف اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی یہ تازہ کامیابی ان کی مسلسل محنت کا ثمر اور ریاستی سطح پر ان کی ادبی شناخت کا اعتراف ہے۔