کنجہرہ , مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا اردو اساتذہ کے لیے تاریخی ورکشاپ 150 سے زائد اردو اساتذہ کی بھرپور شرکت، مصنوعی ذہانت اور ’’ہیپی کلاس روم‘‘ پر ماہرین کی رہنمائی
Author -
personحاجی شاھد انجم
ستمبر 02, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے زیرِ اہتمام اردو میڈیم اساتذہ کے لیے ایک روزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ عبدالصمد اردو ہائی اسکول، کنجہرہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ صبح 9:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک جاری رہنے والے اس ورکشاپ میں بلڈھانہ ضلع کے مختلف نگر پریشد، ضلع پریشد اور خانگی اردو مدارس سے وابستہ 150 سے زائد اردو اساتذہ نے بھرپور اور فعال شرکت کی۔ ورکشاپ کے پہلے اہم سیشن میں پروفیسر عبدالسّمیع صدیقی نے ’’درس و تدریس میں مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز کا استعمال‘‘ کے موضوع پر تفصیلی اور عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور تعلیمی میدان میں اس کے مؤثر استعمال کے مختلف پہلوؤں سے اساتذہ کو واقف کرایا۔ دوسرے سیشن میں ڈاکٹر کفیل احمد نے ’’ہیپی کلاس روم‘‘ کے موضوع پر پُرمغز انداز میں رہنمائی کرتے ہوئے کلاس روم کے ماحول کو طلبہ کے لیے خوش گوار، فعال اور مؤثر بنانے کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ کے دوران ڈائیٹ بلڈھانہ کے ذمہ داران گائیکواڑ، مرزا امام بیگ اور پڈھولکر نے ورکشاپ کا دورہ کرکے تربیتی سرگرمیوں اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ کھام گاؤں پنچایت سمیتی کے شرما جی اور ساگر سر نے بھی ورکشاپ کا دورہ کرکے انتظامات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر بلڈھانہ ضلع کے اردو کیندر پرمکھ ضمیر رضا، مصدق خان اور عبداللہ خان کے علاوہ الفلاح ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر عبدالمجید اور عبدالصمد اردو ہائی اسکول کے پرنسپل شیخ عارف سر بطور مہمانانِ خصوصی موجود رہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت تعلیمی میدان کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اساتذہ نے درس و تدریس میں اے آئی ٹولز کے عملی استعمال کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور ستائش کی۔ شرکاء نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ورکشاپ میں فراہم کی گئی عملی رہنمائی سے انہیں اپنی تدریسی سرگرمیوں کو مزید مؤثر، آسان اور دلچسپ بنانے میں مدد ملے گی۔ تمام اساتذہ نے صبح سے اختتام تک مکمل دلچسپی، یکسوئی اور توجہ کے ساتھ تربیتی سیشنز میں شرکت کی، جس کے نتیجے میں یہ ورکشاپ نہ صرف کامیاب بلکہ بلڈھانہ ضلع کے اردو اساتذہ کے لیے ایک تاریخی اور یادگار تربیتی پروگرام بن گیا۔ ورکشاپ میں شریک تمام اساتذہ کے لیے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے ظہرانے اور چائے کا انتظام کیا گیا، جبکہ تمام شرکاء کو نوٹ بک اور شرکت کا سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا گیا۔