اس حوصلہ افزا جملے کا اظہار استاذ محترم مرحوم ارشد محوی سر Arshad Mahevi نے مورخہ 19 جنوری کو منعقدہ دارالعلم انگلش میڈیم اسکول کے Annual Day Event کے موقع پر بچوں کے پرفارمنس دیکھ کر کئی مرتبہ مجھ سے کیا۔
وہ بچوں کے بہترین پرفارمنس بالخصوص طلبہ کی انگریزی زبان میں Anchoring اور تقاریر سن کر بہت متاثر ہوئے تھے۔
یہ پہلا موقع تھا جب مرحوم ارشد محوی سر نے ہماری اسکول کے کسی پروگرام میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران، وہ بار بار اپنی خوشی اور حیرانی کا اظہار کرتے رہے، اور مجھ سے یہ شکوہ بھی کیا:
"تم نے مجھے اپنے اسکول کی ان سرگرمیوں سے اب تک محروم کیوں رکھا؟"
دورانِ تقریب وہ نہایت خوش و خرم اور مسرور نظر آئے۔ کافی دیر تک موجود رہے، طلبہ کی کارکردگی کو قریب سے دیکھا اور دل کھول کر دعا و تحسین سے نوازا۔
پروگرام کے کچھ دنوں کے بعد سر نے فون پر بھی کئی بار اسکول وزٹ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے لہجے میں جو محبت اور اپنائیت تھی، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ مگر افسوس کہ یہ ملاقات ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔
ان کے انتقال کی خبر سن کر دل کو شدید صدمہ پہنچا۔ تدفین کے بعد سے طبیعت بے چین اور ذہن ماضی کی یادوں میں گم ہے۔
مرحوم مالیگاؤں جونئر کالج میں ہمارے کیمسٹری کے استاذ تھے۔ ان کا اندازِ تدریس، محبت بھرا رویہ اور شاگردوں کے لیے خلوص ناقابلِ بیان تھا۔
ہمیشہ نرمی اور شفقت سے پیش آتے۔ ان کی گفتگو میں سراپا حوصلہ افزائی ہوتی۔ جب بھی ملاقات ہوتی، مسکرا کر خیر خیریت دریافت کرتے، مشورے دیتے اور ہمیشہ ہمت بڑھاتے۔
ان کا ایک جملہ جو اکثر ہماری سماعتوں میں گونجتا رہے گا:
"ابھی آسماں اور بھی ہیں!"
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
محمد حذیفہ ہدائی
