پیپل گاؤں راجہ میں تاریخی بین المذاہب کانفرنس ہم آہنگی، اتحاد اور بھائی چارے کی درخشاں مثال
Author -
personحاجی شاھد انجم
جنوری 16, 2026
0
share
پیپل گاؤں راجہ (واثق نوید) پیپل گاؤں راجہ میں مورخہ 11 جنوری بروز اتوار بھارت لان کے وسیع احاطے میں منعقد ہونے والی عظیم الشان سدبھاؤنا (ہم آہنگی) کانفرنس نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی اتحاد اور انسانیت نوازی کی ایک روشن مثال قائم کی۔
اس تاریخی بین المذاہب اجتماع میں مختلف مذاہب، برادریوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے یہ پیغام دیا کہ نفرت نہیں بلکہ محبت اور اتحاد ہی اس ملک کی اصل پہچان ہے۔
پروگرام کے آغاز پر معزز مہمانوں کا شال اور گلدستوں کے ذریعے پُرتپاک استقبال کیا گیا جبکہ شریک شہریوں کا خیرمقدم گلاب کے پھول پیش کر کے کیا گیا۔ اس باوقار پروگرام کی صدارت معروف سماجی و فکری شخصیت ڈاکٹر سید رفیق پارنیرکر نے فرمائی۔ سدبھاؤنا منچ پیپل گاؤں راجہ کے صدر پرشانت مارٹڈراؤ دیشمکھ نے ابتدائی خطاب میں کہا کہ پیپل گاؤں راجہ ہندو مسلم اتحاد کی جیتی جاگتی مثال ہے اور یہی اس گاؤں کی اصل طاقت ہے۔ ان کے خیالات کو حاضرین نے پُرجوش تالیوں سے سراہا۔
آدیواسی سماج کے نمائندے پرشانت سونوونے نے اسلام اور آدیواسی ثقافت میں پائی جانے والی مساوات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ثقافتیں انسانیت، برابری اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہیں اور کسی بھی طرح کے امتیاز کی نفی کرتی ہیں۔ مہمانِ خصوصی گیانی گووردھن سنگھ (جلگاؤں، خاندیش) نے ملک کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ نفرت پھیلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، لیکن ہندوستان کی اصل بنیاد محبت، اتحاد اور اخوت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک کی سرحدوں پر تمام مذاہب کے فوجی مل کر وطن کی حفاظت کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نفرت کبھی اس ملک کی شناخت نہیں بن سکتی۔ ویرولکر گروجی نے سنتوں کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام سنتوں نے انسانیت اور یکجہتی کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا ایک ہے، جبکہ ذات پات، فرقہ اور زبان کی دیواریں انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں۔ پیپل گاؤں راجہ کے تھانیدار بھاگوت مُلیک نے اپنے خطاب میں کہا کہ گاؤں کی ترقی ریاست کی ترقی اور ریاست کی ترقی ملک کی ترقی کا سبب بنتی ہے، اس لیے سب کو مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر ملک و سماج کی خدمت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہ.بھ.پ. دھرم کیرتی مہاراج ساونت (پربھنی) نے اس پروگرام کو صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا کہ صوفیاء اور سنتوں نے ہمیشہ جوڑنے اور بھائی چارہ بڑھانے کا کام کیا ہے۔ ستکھنجیری وادک ستیہ پال مہاراج شِرسولیکر نے عملی طور پر سدبھاؤنا کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسلم اور ایک ہندو خاتون کو اسٹیج پر بلا کر ایک دوسرے کا خیرمقدم کروایا اور کہا کہ یہی حقیقی ہم آہنگی ہے، جہاں انسان انسان کے کام آتا ہے۔ صدارتی خطاب میں ڈاکٹر رفیق پارنیرکر نے کہا کہ عبادات کی اپنی اہمیت ہے، لیکن انسانوں کو جوڑنا سب سے بڑا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پھیلانے والے کم ہوتے ہیں جبکہ محبت پھیلانے والے لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں، اور یہی سنتوں کی اصل تعلیم ہے۔ آخر میں جماعتِ اسلامی ہند، پیپل گاؤں راجہ کے مقامی امیر محمد ضیااللہ نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام انتہائی پُرامن، جوش و خروش اور خوشگوار ماحول میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، بعد ازاں تمام حاضرین کے لیے طعام کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ پروگرام کی مؤثر اور خوش اسلوب نظامت محترم سہیل فرقان صاحب (ناظم ضلع جماعت اسلامی ہند، بلڈانہ نارتھ) نے انجام دی۔ اس موقع پر ستکھنجیری وادک ستیہ پال مہاراج شِرسولیکر، شری ہری بھاؤ بیرولکر گروجی، گیانی گووردھن سنگھ، ڈاکٹر آر۔جی۔ سید پارنیرکر، بھاگوت مُلیک، ڈاکٹر کویشور کھام گاؤں، پرشانت دیشمکھ، سہیل فرقان اور دیگر معزز شخصیات کی شرکت نے پروگرام کی شان بڑھائی۔ تقریب میں مرد و خواتین ملا کر تقریباً 700 افراد کی موجودگی اتحاد و اتفاق کی زندہ تصویر پیش کر رہی تھی۔ اس تاریخی پروگرام کی کامیابی میں ایس آئی او، جی آئی او، حلقہ خواتین اور تمام کارکنان کی انتھک محنت شامل رہی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے (آمین)