پریاگ راج کی انجم آرا جج بن گئیں جوڈیشیل امتحان کی ٹاپر کا دیانتداری سے فرائض انجام دینے کا عزم
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 23, 2026
0
share
(سیاست) پریاگ راج(یوپی) ۔22 ؍ فروری (ایجنسیز) کامیابی کی یہ کہانی پریاگ راج کی انجم آرا کی ہے۔ اپنے چچا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی موت کے بعد انہوں نے ان کی طرح جج بننے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہنا کر آخر کار اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کر کے دکھایا۔
پریاگ راج کی اس ہونہار بیٹی نے چھتیس گڑھ کے ‘پروونشیل جوڈیشیل سروس ایگزام’ میں پہلا مقام حاصل کرکے اتر پردیش کا نام روشن کیا۔ انجم آرا کی تعلیم و تربیت پریاگ راج میں ہوئی ہے۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے اور ایل ایل بی کیا۔ انجم کا تعلق ایک تعلیم یافتہ مسلم گھرانے سے ہے۔
ان کے والد شمیم احمد اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں اسسٹنٹ مینیجر ہیں، جب کہ ان کی والدہ، اختری بیگم، ایک گھریلو خاتون ہیں۔انجم بتاتی ہیں کہ ان کے چچا جنہیں وہ بڑے ابو کہہ کر پکارتی تھیں، وہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج تھے۔ ان کی موت کے بعد ہی انہوں نے جوڈیشل سروس میں شامل ہونے اور سماج کیلئے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں انہیں ان کے خاندان کی طرف سے بھرپور تعاون ملا جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے دن رات تیاری کرنا شروع کر دیا۔انجم نے اپنی ابتدائی تعلیم سنٹرل اکیڈمی، جھونسی میں مکمل کی۔ اس کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں لاء فیکلٹی نے ان کی قانونی بنیاد کو مضبوط کیا۔ انجم کے مطابق وہاں کے پروفیسرز نے انہیں قانون کو حفظ کرنے کے بجائے عملی طور پر سمجھنا اور اس کا مطالعہ کرنا سکھایا۔ وہاں کے مضبوط تعلیمی ماحول کی وجہ سے انہیں ہائی پروفائل کوچنگ اداروں پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔انجم نے وضاحت کی کہ ان کی تیاری مکمل طور پر خود پر منحصر تھی۔ وہ روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے باقاعدگی سے پڑھتی تھیں۔ انہوں نے بیئر ایکٹ ( Bare act ) کے ہر سیکشن اور لفظ کا اچھی طرح مطالعہ کیا ۔ مینز کے امتحان کے لیے انہوں نے ججمنٹ رائٹنگ فیصلہ لکھنے کی مشق پر خاص توجہ دی اور چھتیس گڑھ کی مقامی عدالتوں کے فیصلوں کا مطالعہ کیا۔ ان کی خبروں کو باقاعدگی سے پڑھنے کی عادت انٹرویو میں خاصی مددگار ثابت ہوئی۔ انجم اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین کو دیتی ہیں۔ انہوں نے گھر میں مطالعہ کا ایسا ماحول پیدا کیا جس نے اس کی توجہ کو کبھی متاثر نہیں کیا۔ راجستھان اور دہلی کے جوڈیشیل ایگزام میں ان کی ناکامیوں کے باوجود ان کے خاندان نے انہیں متحرک رکھا، اس کے نتیجے میں وہ آج ریاست کی ٹاپر بن گئی۔ اپنی کامیابی پر انجم آرا کا کہنا ہے کہ اب ان کا مقصد اپنے عدالتی فرائض کو پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ وہ عدلیہ کے ذریعے معاشرے کیلئے اپنی ذمہ داریاں انتہائی حساسیت کے ساتھ ادا کرنا چاہتی ہیں۔