نعت خوانی کے مقابلوں سے طلبہ میں قرأت و نعت کا ذوق بیدار ہوتا ہے، ایسے مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کو حصہ لینا چاہیے: پروفیسر کیرتی مالنی جاولے شعبۂ اردو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں یونیورسٹی سطح کے نعت خوانی مقابلے کا انعقاد
Author -
personحاجی شاھد انجم
فروری 07, 2026
0
share
(پریس ریلیز) شعبۂ اردو، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی اور مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے اشتراک سے یونیورسٹی سطح کے نعت خوانی مقابلے کا انعقاد بروز 5 فروری کیا گیا، جس میں مختلف مدارس، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تقریباً 50 سے زائد طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ، صدرِ شعبۂ اردو نے فرمائی۔ انہوں نے تمام حاضرین اور مہمانانِ گرامی کا استقبال کیا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
اس مقابلے کے لیے پروفیسر آصفیہ زکریہ (پرنسپل، چشتیہ کالج، خلد آباد)، جناب قاضی جاوید ندا (مشہور و معروف شاعر) اور جناب احمد اورنگ آبادی (مشہور و معروف شاعر) بحیثیت جج موجود تھے۔ پروگرام کا آغاز شعبۂ اردو کے سال دوم کے طالب علم ابوالحسن بلال کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر آصف زکریہ نے اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعبۂ اردو اور مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے اراکین کو اس کامیاب پروگرام پر مبارکباد دی۔ جناب قاضی جاوید ندا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کالجوں، مدارس اور جامعات کے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں، اور شعبۂ اردو میں ایسے پروگراموں کا انعقاد نہایت اہم ہے۔ اسی طرح جناب احمد اورنگ آبادی نے بھی پروگرام کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدرِ شعبۂ اردو کو مبارکباد پیش کی۔ پہلے اجلاس کی صدر پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ نے کہا کہ ایسے مقابلے طلبہ و طالبات کو ایک بہترین اسٹیج فراہم کرتے ہیں، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ انہوں نے آئندہ بھی ایسے پروگرام بار بار منعقد کرنے کا یقین دلایا اور مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ پہلے اجلاس کی نظامت پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شیخ اصغر (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو) نے انجام دی، جبکہ شکریہ کے کلمات ڈاکٹر سید سہیل ہاشمی نے ادا کیے۔ دوسرے اور تیسرے اجلاس میں 50 سے زائد نعت خواں طلبہ و طالبات نے اپنے مترنم، خوبصورت اور منفرد انداز میں نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جسے حاضرین اور ججز نے بے حد سراہا۔ ججز کے دیے گئے نمبروں کے مطابق: انعامِ اول صالیہ سلیم (طالبہ، B.Sc تھرڈ ایئر) انعامِ دوم احمد رضوان (طالب علم، M.A فرسٹ ایئر) انعامِ سوم شیخ عائشہ علیم (طالبہ، B.A فرسٹ ایئر) ترغیبی انعامات حاصل کرنے والوں میں ام ایمن (گولڈ)، محمد معاذ (برونز میڈل) اور محمد حارث (سلور میڈل) شامل ہیں۔ طلبہ و طالبات کی شاندار نعت خوانی کو دیکھتے ہوئے پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ نے مزید ترغیبی انعامات دینے کا اعلان کیا، جن کے مستحقین میں شیخ سلیمان ہارون، شیخ شعیب شیخ ایوب، ماریہ مبشرہ، شیخ سانیہ تسنیم، حمیرہ ناز، شیخ غفار، محمد فرقان، سید افنان صابر علی، شیخ عرفان ندوی، عظمیٰ فہیم اور مہک شامل ہیں۔ دوسرے اور تیسرے اجلاس کی نظامت شعبۂ اردو کے سال دوم کے طالب علم قاضی محمد عاطف نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ نعت خوانی کے دوران وقت کی نگرانی کے لیے سال اول کی طالبات خان خانسہ مہرین اور خان خوبہ فلک کو مقرر کیا گیا، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ پروگرام کا اختتام ڈاکٹر شیخ اصغر کے شکریہ پر ہوا۔