امام و مؤذن کی خدمات کا عظیم الشان اعتراف: حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) کی جانب سے رضوان مسجد کے خدام کو عمرہ کا بابرکت تحفہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 17, 2026
0
share
مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر کی معروف عبادت گاہ رضوان مسجد میں آج ایک نہایت روح پرور اور بابرکت لمحہ دیکھنے کو ملا جب حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) نے مسجد کے امام و مؤذن صاحبان کی دینی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں عمرہ کے مقدس سفر کا بیش قیمت تحفہ پیش کیا۔
اس مبارک موقع پر رضوان مسجد میں ایک مختصر مگر انتہائی بابرکت مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی معززین، نمازی حضرات اور اہل علاقہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
اس مجلس کا ماحول روحانیت، محبت اور اخلاص سے لبریز تھا اور حاضرین اس خوشی کے لمحے کے گواہ بن کر خود کو خوش نصیب تصور کر رہے تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) نے کہا کہ مساجد کے امام اور مؤذن دراصل دین اسلام کے خاموش سپاہی ہوتے ہیں جو دن رات اللہ کے گھر کی خدمت، عبادت گزاروں کی رہنمائی اور معاشرے میں دینی شعور بیدار کرنے کا عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امام صاحب نمازوں کی امامت کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے حضور جھکنے کا راستہ دکھاتے ہیں جبکہ مؤذن کی پکار لوگوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کرتی ہے۔ ایسے خدام کی قدر کرنا دراصل دین کی خدمت کی قدر کرنا ہے۔
حضرت صابر نورانی نے اس موقع پر اپنے مرحوم والد محترم قاری عثمان غنی رحمۃ اللہ علیہ اور اپنی مرحومہ والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے رضوان مسجد کے امام و مؤذن صاحبان کو عمرہ کے سفر کے ٹکٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حج کے سیزن کے اختتام کے بعد ماہِ محرم الحرام کی بابرکت ساعتوں میں دونوں خوش نصیب خدامِ مسجد عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حرمین شریفین کا روح پرور سفر اختیار کریں گے۔ جیسے ہی یہ اعلان کیا گیا تو مجلس میں موجود افراد کی آنکھیں خوشی اور عقیدت سے نم ہو گئیں اور حاضرین نے اس نیک اقدام کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر وہ لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں جو حقیقی معنوں میں دین کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ امام اور مؤذن اپنی محدود آمدنی اور سادہ زندگی کے باوجود پوری لگن اور خلوص کے ساتھ مسجد کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر اہل علاقہ نے بھی حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) کے اس اقدام کو بے حد سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں خیر، محبت اور دینی شعور کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مخیر حضرات مساجد کے خدام اور دینی خدمات انجام دینے والے افراد کی قدر کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں دین کی خدمت کا جذبہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) اس سے قبل بھی مختلف دینی و سماجی خدمات کے ذریعے عوام کے دلوں میں اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں۔ حال ہی میں للہ فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ اجتماعی نکاح کی بابرکت تقریب میں انہوں نے اکاون ہزار روپے کی خطیر رقم عطیہ کر کے فاؤنڈیشن کے اس عظیم سماجی مشن کو تقویت فراہم کی تھی۔ جسے عوامی حلقوں میں بے حد سراہا گیا تھا۔ حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) کا یہ تازہ اقدام یقیناً نہ صرف ایک قابل تقلید مثال ہے بلکہ معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد کے لیے بھی ایک روشن پیغام ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا سا قدم بھی بہت بڑی نیکی اور صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔ مساجد کے خدام کی قدر افزائی اور ان کی حوصلہ افزائی دراصل دین کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ اہل علاقہ اور نمازی حضرات نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) کی اس نیک کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے مرحوم والدین کی مغفرت فرمائے اور انہیں مزید دینی و سماجی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ساتھ ہی یہ دعا بھی کی گئی کہ رضوان مسجد کے امام و مؤذن صاحبان کو حرمین شریفین کے اس مقدس سفر میں بے شمار روحانی برکتیں نصیب ہوں اور وہ وہاں امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔