داروہ ، ڈاکٹر فرحانہ اعظمی کی پی ایچ ڈی نگراں کے طور پر تقرری، علمی حلقوں میں مسرت کی لہر
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 27, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) سنت گاڑگے بابا یونیورسٹی امراوتی نے تعلیمی و تحقیقی میدان میں ایک قابلِ تحسین اقدام کرتے ہوئے مختلف کالجوں سے وابستہ اردو و فارسی کے ممتاز اساتذہ کو پی ایچ ڈی نگراں (ریسرچ گائیڈ) کے طور پر منظوری دی ہے۔
ان میں ضلع ایوت محل کے تعلیمی حلقوں کے لیے باعثِ فخر شخصیت، منگساجی مہاراج مہاودیالیہ دارواہ کی صدر شعبۂ اردو پروفیسر ڈاکٹر فرحانہ اعظمی بنت محمد صادق بھی شامل ہیں، جن کی تقرری کو علمی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ضلع ایوت محل میں ایک طویل عرصے سے اردو کے لیے یونیورسٹی سطح پر کوئی باقاعدہ ریسرچ گائیڈ موجود نہیں تھا، جس کے باعث ریسرچ اسکالرز کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ایسے میں ڈاکٹر فرحانہ اعظمی کی بطور پی ایچ ڈی گائیڈ منظوری نہ صرف مقامی طلبہ کے لیے خوش آئند خبر ہے بلکہ اس سے اردو و فارسی زبان و ادب میں اعلیٰ تحقیق کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دیگر نامور اساتذہ میں ڈاکٹر محمد عظیم الدین (صدر شعبہ اردو، آرٹس و کامرس کالج بیودہ، امراوتی)، پروفیسر ڈاکٹر انجم ناہید عبدالکلیم (صدر شعبہ اردو، یشونت راؤ چوہان مہاودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم)، ڈاکٹر نزہت پروین محمد غوث (شعبہ اردو، گورنمنٹ ودربھ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومینٹیز، امراوتی) اور ڈاکٹر سید رمیز سید وسیم (صدر شعبہ فارسی، یشونت راؤ چوہان مہاودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم) شامل ہیں۔
ڈاکٹر فرحانہ اعظمی کی اس نمایاں کامیابی پر علاقے کے علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں زبردست خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، پرنسپلز، اساتذہ اور طلبہ نے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی رہنمائی میں نئے محققین معیاری، سنجیدہ اور وقیع تحقیقی کام انجام دیں گے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق یونیورسٹی کا یہ اقدام نہ صرف اردو و فارسی تحقیق کو فروغ دے گا بلکہ علاقائی سطح پر علمی بیداری اور تحقیقی مزاج کو بھی مستحکم کرے گا، جو یقیناً مستقبل میں مثبت اور دیرپا نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔