ریاست بھر میں ‘گروکل اردو مقابلہ جاتی امتحان’ کا انعقاد 29 مارچ کو 4200 طلبہ کی شرکت، نمایاں کامیاب طلبہ کے لیے اسرو کا مفت تعلیمی دورہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 27, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ریاست مہاراشٹر میں اردو میڈیم کے طلبہ میں علمی مسابقت کو فروغ دینے اور انہیں مستقبل کے بڑے تعلیمی چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے “گروکل اردو مقابلہ جاتی امتحان” کا ریاستی سطح پر 29 مارچ 2026 (اتوار) کو انعقاد عمل میں آ رہا ہے۔ اس اہم تعلیمی سرگرمی میں جماعت اول سے ہشتم تک کے تقریباً 4200 طلبہ حصہ لے رہے ہیں، جس کے لیے ریاست کے 15 اضلاع میں 30 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے امتحان کو منظم اور سہل بنانے کے لیے مختلف درجات کے مطابق اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔
جماعت اول اور دوم کے طلبہ کے لیے ایک ہی پرچہ صبح 9 بجے سے 10 بجے تک ہوگا، جبکہ جماعت سوم تا ہشتم کے طلبہ کے لیے دو پرچے رکھے گئے ہیں۔ پہلا پرچہ صبح 9 بجے سے 10:30 بجے تک اور دوسرا 11:30 بجے سے دوپہر 1 بجے تک لیا جائے گا۔ تمام طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امتحان شروع ہونے سے کم از کم آدھا گھنٹہ قبل اپنے مراکز پر حاضر ہوں۔
ریاست کے مختلف اضلاع میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کولہاپور، سانگلی، سندھو درگ، ایوت محل، بیڑ، اکولا کے علاوہ بلڈھانہ (کھام گاؤں)، ستارا (کراڈ)، لاتور، رتناگیری (لانجا)، رائے گڑھ (تلوجہ)، تھانے (بھونڈی)، اورنگ آباد، پربھنی اور امراوتی (انجن گاؤں) شامل ہیں۔ ان مراکز پر امتحان کے شفاف اور منظم انعقاد کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
امتحان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کامیاب طلبہ کو نہ صرف اعزاز سے نوازا جائے گا بلکہ انہیں سائنسی میدان سے روشناس کرانے کے لیے خصوصی مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔ گزشتہ سال نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو بنگلور اور میسور میں واقع اسرو مراکز کا مطالعاتی دورہ کرایا گیا تھا، جبکہ اس سال جماعت سوم تا ہشتم کے ہر درجہ سے دو ریاستی ٹاپرز (مجموعی طور پر 12 طلبہ) کو احمد آباد میں واقع اسرو کے تعلیمی دورے پر بالکل مفت لے جایا جائے گا۔ گروکل انتظامیہ نے اس اقدام کو اردو میڈیم کے طلبہ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ امتحان نہ صرف بچوں میں تعلیمی شوق اور مقابلہ جاتی جذبہ پیدا کرے گا بلکہ انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید میدانوں کی جانب راغب کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی تمام طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی گئی ہے۔