کھام گاؤں ، خانوادۂ بدر کی چار روزہ عید تقریبات علم، ادب اور اتحاد کا درخشاں استعارہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
مارچ 27, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ودربھ کی سرزمین ایک بار پھر اس وقت علمی و تہذیبی رنگوں سے جگمگا اٹھی جب معروف ماہرِ تعلیم حضرت حفیظ اللہ خان بدر کے خانوادۂ بدر نے عید الفطر کے موقع پر اپنی شاندار روایات کو زندہ رکھتے ہوئے چار روزہ پُروقار تقریبات کا انعقاد کیا۔
یہ تقریبات محض خوشیوں کا اظہار نہیں بلکہ علم و ادب، تہذیب و تربیت اور خاندانی یگانگت کا ایک خوبصورت عملی نمونہ ثابت ہوئیں۔
عید کے پہلے روز روحانیت سے لبریز آغاز ہوا، جب معاذ عدیل خان کی دلنشین تلاوتِ کلامِ پاک نے محفل کو نورانیت سے بھر دیا۔ مرحوم موثق اللہ خان کے مکان پر روایتی اجتماع کے بعد پورا خاندان ایک حسین قافلے کی صورت میں عیدگاہ روانہ ہوا۔ نماز کے بعد پرتکلف ضیافت اور عیدی کی تقسیم نے محبتوں کو مزید گہرا کر دیا۔
دوسرے دن ادبی ذوق اپنے عروج پر نظر آیا، جب الحاج مصدق اللہ خان کی میزبانی میں بیت بازی کا شاندار مقابلہ منعقد ہوا۔ مرد و خواتین کی ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس دلچسپ شعری معرکے نے محفل کو زعفران زار بنا دیا، جہاں اشعار کی برجستگی اور حاضر جوابی نے سماں باندھ دیا۔ سنسنی خیز مقابلے کے بعد مردوں کی ٹیم نے کامیابی اپنے نام کی۔
تیسرے دن علمی فضا اپنے جوبن پر تھی، جب ڈاکٹر مجاہد اللہ خان کے دولت کدہ پر "سیرت النبی ﷺ کوئز" کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس بامقصد مقابلے نے نوجوان نسل کو سیرتِ طیبہ کے سنہرے پہلوؤں سے روشناس کرایا۔ بھرپور مقابلے کے بعد میزبان خاندان نے نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ چوتھے اور آخری دن ڈاکٹر نعمان اللہ خان کے یہاں فکری و علمی سرگرمیوں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ فی البدیہہ تقریری مقابلہ اور جنرل نالج کوئز نے نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو جِلا بخشی۔ شرکاء نے برجستہ اظہارِ خیال کے ذریعے اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ان تمام تقریبات میں خاندان کی ممتاز شخصیات واثق اللہ خان المعروف واثق نوید، عرفان اللہ خان، جنید اکرام خان، آیت اللہ خان اور عبداللہ خان کی سرپرستی نے پروگرام کو وقار بخشا، جبکہ مشاہد اللہ خان اور جواد افضل خان کی انتھک محنت نے انتظامات کو مثالی بنایا۔ نظامت کے فرائض شعیب اللہ خان نے نہایت دلکش انداز میں انجام دیتے ہوئے اپنی فصاحت و بلاغت سے سامعین کو مسحور رکھا۔ چار روزہ ان بابرکت اور یادگار تقریبات کا اختتام مولانا کامران اللہ خان اشاعتی کی رقت انگیز دعا پر ہوا، جس نے ہر آنکھ کو نم اور ہر دل کو منور کر دیا۔ اس موقع پر الحاج مصدق اللہ خان نے آئندہ بھی ایسے تعمیری و علمی پروگراموں کے تسلسل کا عزم ظاہر کیا۔ بلاشبہ، خانوادۂ بدر کی یہ کاوش نہ صرف ایک مثالی خاندانی روایت ہے بلکہ نئی نسل کے لیے علم، تہذیب اور اتحاد کا روشن مینار بھی ہے۔