سمندر مل رہے ہیں چھن رہے ہیں مگر ہم موج دریا گن رہے ہیں ہمارے حال سے لگتا نہیں کیا؟ ہمارے بھی کیء محسن رہے ہیں صفر کی سمت یہ اپنا سفر ہے سو ہم اب الٹی گنتی گن رہے ہیں یہاں رہنے کی کوئی بات بھی تھی رہا جاتا نہ تھا لیکن رہے ہیں میں پیڑوں پر کلہاڑی کیا چلاؤں؟ میرے پرکھوں کے یہ ہم سن رہے ہیں زمانے کے لیے مشکل تھے افسر تمہارے واسطے ممکن رہے ہیں