( اپنی بات ) #صحافیوں کا حوصلہ از قلم حافظ محمد عارف تعلیمی وسماجی خادم کنکرباغ، پٹنہ، بہار 9771753880
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 10, 2026
0
share
گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ احتجاج کو جس طرح روکا جا رہا ہے، وہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ مشکلات کی اس گھڑی میں آزاد اور حقیقت پسند صحافیوں کا حوصلہ قابلِ رشک ہے۔ صحافت کا اصل امتحان ہی اس وقت ہوتا ہے، جب اقتدار کی طاقت کے سامنے سچائی بیان کرنا اور عوام کی آواز بننا ایک دشوار مرحلہ بن جائے۔ صحافتی میدان سے وابستہ افراد پولیس اور فورس کی رکاوٹوں اور سختیوں کے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی یہ جرأت محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں، بلکہ جمہوری اقدار سے وابستگی اور عوام کے حقِ اظہارِ رائے کی پاسداری کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔ ایسے حالات میں صحافیوں کی ثابت قدمی ان تمام لوگوں کے لیے حوصلے کا پیغام ہے، جو جمہوریت کو محض انتخابی عمل نہیں، بلکہ عوام کے حقوق، آزادی اور انصاف کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ درحقیقت، اس وقت ملکی جمہوریت کے تحفظ میں آزاد میڈیا کا کردار ایک آہنی دیوار کی مانند ہے۔ اگر صحافی دباؤ کے سامنے خاموش ہو جائیں، تو اقتدار سے سوال کون کرے گا، عوام کی آواز کون بنے گا اور جمہوری اداروں کی جواب دہی کون یقینی بنائے گا؟ یاد رکھیے! صحافت کی طاقت اس کے قلم کی آزادی، اس کی جرأت اور اس کی بے خوف سچائی میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا، صحافیوں کے حوصلے کو سلام کیجیے، ان کی آزادی کا تحفظ کیجیے اور سچائی کی آواز کے ساتھ کھڑے رہیے؛ کیونکہ آزاد صحافت کمزور ہوگی تو جمہوریت بھی کمزور ہوگی، اور جب صحافت بے خوف ہوگی، تبھی جمہوریت سربلند ہوگی۔