ایکولوجیکل فُٹ پرنٹ کے شعبے میں دنیا بھر کے محدود ماہرین کے درمیان ابھرتا ہوا نام ڈاکٹر دلاور حسین ماحولیاتی نقشِ پا اور پائیدار ترقی پر ڈاکٹر دلاور حسین کی نمایاں تحقیقی کاوشیں
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 10, 2026
0
share
مالیگاؤں: ایس این انصاری ( فری لانس جرنلسٹ) علم و تحقیق کسی بھی معاشرے کی ترقی، فکری بیداری اور مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بالخصوص انجینئرنگ اور سائنسی علوم کے میدان میں ایسے اساتذہ اور محققین کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جو کتابی علم کو عملی مسائل کے حل، تکنیکی اختراعات اور ماحولیاتی تحفظ سے مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ آج جب دنیا توانائی کے بحران، ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی محدود دستیابی اور پائیدار ترقی جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں سائنسی تحقیق محض علمی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر دلاور حسین ابن امجد علی کا علمی و تحقیقی خدمات قابل ستائش ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم اور موتی لال نہرو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، الہ آباد سے پی ایچ ڈی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے درس و تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں ۔ فی الحال موصوف مالیگاؤں شہر کے معروف مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس، منصورہ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر (میکانیکل انجینئرنگ)کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے وہ توانائی کی بچت، پائیدار تعمیرات، عمارتوں کے ماحولیاتی اثرات، قابلِ تجدید توانائی اور وسائل کے مؤثر استعمال جیسے اہم موضوعات پر تحقیقی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی علمی سرگرمیوں میں تحقیقی مقالات، کتابیں، کتابی ابواب، بین الاقوامی علمی تعاون اور تحقیقی جرائد سے متعلق اداریاتی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر دلاور حسین کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ انجینئرنگ کے تکنیکی مسائل کو ماحولیاتی پائیداری اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کی علمی دلچسپیوں سے یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ جدید انجینئرنگ، توانائی کے مؤثر نظام اور سائنسی تحقیق کس طرح پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس خصوصی اسٹوری میں ہم ڈاکٹر دلاور حسین کے تعلیمی سفر، تدریسی تجربات، تحقیقی موضوعات، بین الاقوامی اشاعتی و اداریاتی خدمات اور مستقبل کے علمی عزائم پر گفتگو کریں گے۔ ساتھ ہی یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ نوجوان طلبہ اور محققین تحقیق کے میدان میں اپنی شناخت کیسے قائم کر سکتے ہیں، علاقائی تعلیمی اداروں میں تحقیقی ماحول کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے، اور سائنسی علم کو معاشرے کی بہتری اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے کس انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر دلاور حسین کی پیدائش 1989ء میں لکھنؤ، اتر پردیش میں ہوئی۔ ان کے والد محترم امجد علی محکمہ زراعت اتر پردیش سرکار میں ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر دلاور حسین نے ابتدائی تعلیم انگریزی میڈیم سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 2011ء میں میکانیکل انجینئرنگ میں گریجویشن اور 2013ء میں پوسٹ گریجویشن مکمل کیا۔ قومی سطح کے مشکل ترین GATE امتحان نمایاں نمبرات کی بنیاد پر انہیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی الہ آبادمیں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ ملا، جہاں سے ان کے تحقیقی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ انہوں نے 2020ء میں انرجی اینڈ انوائرنمنٹ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی، جس میں تعلیمی عمارتوں کی توانائی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر دلاور حسین نے تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے 50 سے زائد تحقیقی مقالے بین الاقوامی ایس سی آئی اور اسکوپس انڈیکسڈ جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جب کہ ان کے نام 7 ہندوستانی پیٹنٹ، 17 کتابی ابواب اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں 4 تحقیقی مقالے بھی درج ہیں۔ ان کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں سال 2024ء میں این آئی ٹی سری نگر کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں انہیں بہترین تحقیقی مقالے کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ متعدد قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں بطور مقرر شرکت کر چکے ہیں۔ اداریاتی میدان میں بھی وہ سرگرم ہیں او اسپرنجر نیچر کے سائنٹفکٹ رپورٹس سمیت مختلف تحقیقی جرائد میں اداریاتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ نوجوان محققین کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں؛ ان کی نگرانی میں ایک طالب علم پی ایچ ڈی مکمل کر چکا ہے، جب کہ تین طلبہ ڈاکٹریٹ کی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر دلاور حسین کی تحقیقی دلچسپیوں میں ایکولوجیکل فٹ پرنٹ کا شعبہ بھی نمایاں اہمیت رکھتا ہے، جو انسانی سرگرمیوں کے ماحول اور قدرتی وسائل پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے سے متعلق ہے۔ اس شعبے میں ان کی تحقیقی سرگرمیاں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر دلاور حسین کے مطابق، طلبہ کو ایکولوجیکل فٹ پرنٹ اور ماحولیاتی تحقیق کے شعبے میں اپنے کیریئر کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ مستقبل میں صنعتی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور صنعتی سرگرمیوں میں ماحولیاتی اثرات کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہوگا۔ ان کے نزدیک پائیدار ترقی کا تقاضا ہے کہ صنعتیں اور ترقیاتی ادارے معاشی پیش رفت کے ساتھ قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو بھی ترجیح دیں۔ اخیر میں ڈاکٹر دلاور حسین نے بتایا کہ ایکولوجیکل فٹ پرنٹ یعنی ماحولیاتی نقشِ پا ایک ایسا پیمانہ ہے جس کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ انسانوں کی روزمرہ سرگرمیوں، طرزِ زندگی، خوراک، رہائش، نقل و حمل اور توانائی کے استعمال کے لیے قدرتی وسائل کی کتنی ضرورت ہوتی ہے اور ان سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فضلے، خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ، کو جذب کرنے کے لیے زمین اور قدرتی ماحول کے کتنے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ آسان الفاظ میںماحولیاتی نقشِ پا ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زمین کے قدرتی وسائل پر کتنا بوجھ ڈال رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے، ذاتی گاڑی سے طویل سفر کرتا ہے اور زیادہ اشیا خریدتا ہے، تو اس کا ماحولیاتی نقشِ پا عموماً زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، توانائی کی بچت، پبلک ٹرانسپورٹ اور قدرتی وسائل کے محتاط استعمال سے اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ جس کی اہمیت یہ ہے کہ ماحولیاتی نقشِ پا کی پیمائش پائیدار ترقی، قدرتی وسائل کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ---