قمرالنساء مرحومہ کی صحافتی، علمی اور انتظامی خدمات کو خراجِ عقیدت تعزیتی نشست میں بڑی تعداد میں صحافیوں، ادیبوں اور سماجی شخصیات کی شرکت، اردو ٹائمز کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم — سہیل احمد والدہ کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 09, 2026
0
share
ممبئی: روزنامہ اردو ٹائمز کی روحِ رواں، مالک و مدیر سعید احمد کی اہلیہ اور اردو صحافت سے گہری وابستگی رکھنے والی قمرالنساء سعید احمد کی یاد میں منعقدہ تعزیتی نشست انتہائی جذباتی ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں شہر کے ممتاز صحافیوں، ادیبوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے مرحومہ کی صحافتی، علمی، انتظامی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ قمرالنساء نے 2016 کے بعد مشکل حالات میں اردو ٹائمز کی ذمہ داریاں جس عزم، حوصلے، صبر و ضبط اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ سنبھالیں، وہ اردو صحافت میں ایک منفرد مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف اخبار کو بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اپنے مطالعے، علمی تشنگی، صحافتی ذوق اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر کے ذریعے ادارے کے مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قمرالنساء کی خدمات کو محض ایک رسمی تعزیتی نشست تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے اردو زبان و صحافت کے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ تعزیتی نشست کے دوران اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری سرفراز آرزو، اردو پترکار سنگھ کے احمد اظہار، مرحومہ کے فرزند سہیل احمد اور ممبئی اردو نیوز کے خالد منظور احمد ڈائس پر موجود تھے۔ فاروق انصاری: قمرالنساء نے مشکل وقت میں اخبار کو سنبھالا اردو ٹائمز سے طویل عرصے سے وابستہ سینئر صحافی فاروق انصاری نے کہا کہ ان کی سعید احمد کے ساتھ تقریباً 42 برس کی وابستگی ہے اور قمرالنساء سے بھی تقریباً تین دہائیوں سے تعلق رہا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں قمرالنساء سے جب بھی گفتگو ہوتی، ان کے انداز میں شفقت اور اپنائیت نمایاں ہوتی تھی، لیکن 2016 کے بحران کے بعد جب انہوں نے عملی طور پر اخبار کی ذمہ داریوں میں حصہ لینا شروع کیا تو ان کی صلاحیتوں کا ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ فاروق انصاری نے کہا کہ قمرالنساء نے انتظامی معاملات کو انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ سنبھالا، لوگوں کو جوڑا اور مشکل حالات میں بھی اشتعال یا جذباتی ردعمل سے گریز کیا۔ ان کے خلاف اگر کچھ لکھا گیا تو انہوں نے جواباً صفحات کے صفحات بھرنے کے بجائے خاموشی اور عمل کو اپنا جواب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور اپنی علمی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ انہوں نے اپنی تعلیمی اور صحافتی تربیت کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور عملی زندگی میں انسان اپنی محنت، مطالعے اور عزم سے اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا سکتا ہے۔ فاروق انصاری نے 26 ستمبر کو سہیل احمد کی جانب سے والدہ کے انتقال کی اطلاع دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خبر سن کر وہ سکتے میں آگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء کی بیماری کے باوجود سب کو امید تھی کہ وہ صحت یاب ہوکر دوبارہ دفتر آئیں گی اور اسی طرح رہنمائی کریں گی، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح 2016 کے بعد سہیل احمد نے اخبار کے نیوز اور دیگر شعبوں میں بھرپور ذمہ داری نبھائی، انہیں یقین ہے کہ اب وہ اپنی والدہ کے مشن کو بھی اسی جذبے سے آگے لے جائیں گے۔ سرفراز آرزو: قمرالنساء کی خاموش جدوجہد ایک روشن مثال تھی اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری سرفراز آرزو نے قمرالنساء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اردو ٹائمز کے انتظامی معاملات دیکھنے والی شخصیت نہیں تھیں بلکہ اردو زبان، صحافت اور معاشرے کے مختلف مسائل سے گہری دلچسپی رکھتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا صبر، تحمل اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا انداز تھا۔ انہوں نے مشکل وقت میں جس طرح ادارے کو سنبھالا، اس کے لیے غیر معمولی حوصلے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء کی شخصیت میں ایک طرف انتظامی صلاحیت تھی تو دوسری طرف اردو زبان و ادب سے گہرا لگاؤ بھی تھا۔ سرفراز آرزو نے کہا کہ قمرالنساء کے انتقال سے اردو صحافتی برادری نے ایک ایسی شخصیت کھو دی ہے جو ادارے کو صرف کاروباری نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتی تھیں بلکہ اسے اردو زبان کی خدمت کا ایک ذریعہ سمجھتی تھیں۔ انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ خصوصاً سعید احمد اور سہیل احمد سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پوری صحافتی برادری اس غم کی گھڑی میں ان کے ساتھ ہے۔ جاوید جمال الدین: قمرالنساء کے خلوص اور حوصلہ افزائی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا سینئر صحافی جاوید جمال الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقریباً 40 برس قبل انہوں نے اردو ٹائمز سے اپنی صحافتی وابستگی کا آغاز کیا تھا اور اس وقت ان کی تعلیمی زندگی کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہوچکا تھا۔ بعدازاں وہ 1989 میں روزنامہ انقلاب سے وابستہ ہوگئے اور طویل عرصے تک اردو صحافت سے وابستہ رہے۔ جاوید جمال الدین نے کہا کہ 2016 میں جب انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا سے علیحدگی اختیار کی تو قمرالنساء نے ان سے رابطہ کیا اور اردو ٹائمز میں ان کا کالم شروع کرایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ان کا کالم اتوار کو اردو ٹائمز کے ادارتی صفحے پر شائع ہورہا ہے اور اس سلسلے میں قمرالنساء کی حوصلہ افزائی اور اعتماد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء نے انہیں ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں صحافت کے موضوع پر لیکچر دینے کا مشورہ بھی دیا اور بعد میں انہیں یہ موقع ملا۔ ان کے مطابق یہ قمرالنساء کی علمی دلچسپی اور دوسروں کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کی عادت کی ایک مثال تھی۔ جاوید جمال الدین نے کہا کہ قمرالنساء کی شخصیت کا سب سے متاثر کن پہلو ان کا خلوص تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بہتر انتظامی کارکردگی، صحافتی ذوق اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کے جذبے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مشکل وقت میں اردو ٹائمز کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ سعید خان: اردو اور معاشرے کے مسائل پر گہری نظر تھی سعید خان نے کہا کہ قمرالنساء ایک انتہائی سنجیدہ اور باخبر خاتون تھیں۔ اردو زبان، ادب، معاشرے اور مختلف قومی و ملی مسائل پر ان کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء سے گفتگو کے دوران محسوس ہوتا تھا کہ وہ صرف اپنے اخبار کے معاملات تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے وسیع تر مسائل سے بھی فکرمند رہتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء کی دلچسپی اردو ٹائمز کی ترقی اور اس کے دائرۂ اثر کو وسیع کرنے میں تھی اور وہ خاص طور پر اندرونِ مہاراشٹر اخبار کی مقبولیت اور رسائی کا ذکر خوشی سے کرتی تھیں۔ شکیل رشید: انہوں نے صرف اخبار نہیں، ایک ادارے کو سنبھالا سینئر صحافی شکیل رشید نے کہا کہ 2016 کے حالات کے بعد قمرالنساء جس انداز میں اردو ٹائمز کے دفتر میں آئیں اور ادارے کی ذمہ داری سنبھالی، وہ ان کی غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں یہ سوال ضرور تھا کہ جو خاتون طویل عرصے تک اخبار کے عملی معاملات سے دور رہی ہیں، وہ اتنے مشکل حالات میں کیا کرسکیں گی، لیکن قمرالنساء نے سب کو حیران کردیا۔ انہوں نے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ خبروں، اداریے، قومی و بین الاقوامی حالات اور اخبار کے مجموعی معیار پر بھی توجہ دی۔ شکیل رشید نے کہا کہ قمرالنساء اپنے اخبار کے معاملے میں انتہائی حساس تھیں اور اخبار کی ساکھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کرتی تھیں۔ ان کے نزدیک اردو ٹائمز محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری تھا۔ مستقیم مکی: ایسی خواتین لاکھوں میں ایک ہوتی ہیں مستقیم مکی نے کہا کہ قمرالنساء کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ قومی، ملی اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتی تھیں۔ ان کے مطابق وہ مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کرتی تھیں اور ملک کے حالات، حکومت، عوام، علماء اور اردو زبان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین لاکھوں میں ایک ہوتی ہیں جو گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ قومی اور ملی معاملات پر بھی اتنی گہری نظر رکھتی ہوں۔ انہوں نے قمرالنساء کی اردو کے فروغ کے لیے کوششوں کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔ وجیہ الدین: علم کی پیاس نے انہیں مسلسل آگے بڑھایا وجیہ الدین نے کہا کہ قمرالنساء کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت خوشگوار رہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اخبار میں شائع ہونے والی تحریروں کو توجہ سے پڑھتی تھیں اور کسی مضمون یا کالم کے پسند آنے پر متعلقہ شخص کو فون کرکے حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016 کے بحران کے دوران قمرالنساء کا اخبار کے لیے میدان میں آنا ایک ایسی ماں کی جدوجہد سے مشابہ تھا جو اپنے گھر کو بچانے کے لیے ہر مشکل کا سامنا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء نے ثابت کیا کہ علم صرف یونیورسٹیوں اور ڈگریوں کا محتاج نہیں، بلکہ انسان میں سیکھنے کی پیاس ہو تو وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ وجیہ الدین نے کہا کہ قمرالنساء نے صحافت کی تربیت حاصل کی، مطالعہ کیا اور اپنی علمی کمی کو محسوس کرتے ہوئے اسے پورا کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ خوبی نئی نسل کے لیے بھی مثال ہے۔ ڈاکٹر ندیم کنسائی: اردو ٹائمز کی تاریخ میں قمرالنساء کا اہم کردار ڈاکٹر ندیم کنسائی نے کہا کہ اردو ٹائمز کی طویل تاریخ میں قمرالنساء کا کردار ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کا مشکل حالات میں اخبار کی ذمہ داری سنبھالنا اور اسے مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانا معمولی بات نہیں۔ عالم رضوی: مطبوعہ اخبار کی اہمیت آج بھی برقرار ہے عالم رضوی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے باوجود مطبوعہ اخبارات کی اہمیت اور اعتبار اپنی جگہ برقرار ہے۔ انہوں نے قمرالنساء کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خلوص اور اپنائیت سے پیش آتی تھیں اور اردو صحافت کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتی تھیں۔ برونائی حکیمی: اردو صحافت کو زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے برونائی حکیمی نے کہا کہ قمرالنساء نے اپنی زندگی میں اردو زبان اور اردو صحافت کے لیے جو کچھ کیا، وہ قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور عملی طور پر ثابت کیا کہ خواتین اپنی صلاحیتوں سے معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں اردو صحافت کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور اسے زندہ و مضبوط رکھنا صرف صحافیوں نہیں بلکہ پوری اردو برادری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے قمرالنساء کے نام سے کسی ایوارڈ کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ اعظم شہاب: ضرورت مند صحافیوں کی خاموش مدد کرتی تھیں اعظم شہاب نے قمرالنساء کی انسان دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضرورت مند صحافیوں کی مدد خاموشی سے کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر اردو جرنلسٹس کی فلاحی سرگرمیوں کے لیے مرحومہ نے قابلِ ذکر مالی تعاون کیا، جس سے کئی صحافیوں کے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء نے کبھی اپنی مدد کا چرچا نہیں کیا اور یہی ان کے کردار کی سب سے خوبصورت خصوصیت تھی۔ زبیر اعظمی: ان کے حوصلے اور جرأت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا زبیر اعظمی نے قمرالنساء کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اردو ٹائمز اور اس کے پورے ماحول کو برسوں سے قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء میں غیر معمولی حوصلہ، جرأت اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت تھی۔ مرتضیٰ بوہرہ: تعلیم اور سماجی مسائل پر بھی توجہ دیتی تھیں مرتضیٰ بوہرہ نے بتایا کہ قمرالنساء سماجی مسائل، تعلیم اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر بھی سنجیدگی سے گفتگو کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحومہ کی خواہش تھی کہ اردو میں بھی ایسے موضوعات پر مباحث اور کانفرنسیں ہوں جن پر دوسری زبانوں میں کام ہورہا ہے۔ سلیم الوارے: اردو ختم نہیں ہوگی، اسے نئے انداز سے آگے بڑھانا ہوگا سلیم الوارے نے اردو اخبارات کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں بھی مطبوعہ اخبار کی اپنی اہمیت اور اعتبار برقرار ہے۔ انہوں نے اردو ٹائمز سے اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کیا اور کہا کہ اردو کے ختم ہونے کی باتیں درست نہیں، ضرورت صرف یہ ہے کہ اسے نئی نسل اور بدلتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے جوڑا جائے۔ عامر ادریسی: اردو ڈرامے کے فروغ میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں عامر ادریسی نے قمرالنساء کی اردو ڈراموں اور ثقافتی سرگرمیوں میں دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے اردو ڈراما فیسٹیول کے تعطل کا مسئلہ اٹھایا اور اس کے انعقاد کے لیے متعلقہ ذمہ داران سے بات کی۔ ان کی کوششوں کے بعد طویل وقفے کے بعد ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ممکن ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ قمرالنساء کی یادداشت بھی غیر معمولی تھی اور وہ برسوں قبل شائع ہونے والے مضامین اور کالموں تک یاد رکھتی تھیں۔ سہیل احمد: والدہ کا مشن اب ہماری ذمہ داری ہے آخر میں سہیل احمد نے اپنی والدہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قمرالنساء کا نظریہ یہ تھا کہ صرف خواہش اور دعوے سے بہار نہیں آتی بلکہ میدان میں اتر کر محنت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے مشکل حالات کا دلیری، پامردی اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا اور اردو ٹائمز کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوشش کرتی رہیں۔ سہیل احمد نے کہا کہ ان کی والدہ نے اردو ٹائمز کو محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک مشن تصور کیا تھا۔ انتظامی اور صحافتی معاملات میں وہ ہمیشہ رہنمائی کرتی تھیں اور ان کا رویہ انتہائی سادہ، متواضع اور بے تکلف تھا۔ انہوں نے کبھی اپنے عہدے یا حیثیت کا اظہار تکبر کے ساتھ نہیں کیا۔ والدہ کا ذکر کرتے ہوئے سہیل احمد کی آواز بھر آئی اور وہ مائیک پر جذباتی ہوگئے۔ کچھ دیر کے لیے وہ اپنی گفتگو جاری نہ رکھ سکے۔ ان کی کیفیت دیکھ کر محفل میں موجود متعدد افراد بھی آبدیدہ ہوگئے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اب قمرالنساء کا مشن آگے بڑھانا ان کی ذمہ داری ہے اور وہ پوری کوشش کریں گے کہ اردو ٹائمز کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے تمام شرکاء، صحافتی برادری اور اردو دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قمرالنساء کی محبت اور دعاؤں کا قرض ان کے لیے ہمیشہ باقی رہے گا۔ تعزیتی نشست کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قمرالنساء کی اردو زبان، اردو صحافت، تعلیم اور سماجی خدمت کے لیے خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے مشن کو عملی طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ مولانا نوشاد عالم نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت، بلندیٔ درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا فرمائی۔ تعزیتی نشست میں اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری سرفراز آرزو، اردو پترکار سنگھ کے احمد اظہار، سہیل احمد، خالد منظور احمد، راشد اختر، شکیل انصاری، ایم اقلیم، شمع ایرانی، اکرم نائیک، یونس صدیقی، شبلی رام پوری، شہباز صدیقی، یوسف شیخ، غزالی آزاد، متن خان، نہال صغیر، ندیم انصاری، اعجاز انصاری، معین الدین، حنا خان اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ نشست میں صحافتی برادری کی نمایاں موجودگی رہی اور بڑی تعداد میں صحافیوں، ادیبوں، سماجی کارکنوں اور اردو زبان سے وابستہ افراد نے شرکت کرکے قمرالنساء سعید احمد کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ Javed Jamaluddin, Editor In Chief ./HOD Contact :9867647741. 02224167741