آکولہ ، یکساں سیول کوڈ پر مسلم علمائے دین کو اعتماد میں لیا جائے؛ جاوید ذکریا کا وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ آن لائن سوالنامے کو آسان بنانے، مسودہ عام کرنے اور تمام سماجوں کے نمائندوں سے وسیع تر مشاورت کی اپیل
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 30, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید ) مجوزہ یکساں سیول کوڈ کے معاملے میں مسلم علمائے دین سمیت تمام سماجوں کو اعتماد میں لے کر وسیع تر مشاورت کی جائے اور آن لائن سوالنامے کے عمل کو عام شہریوں کے لیے آسان بنایا جائے۔ یہ مطالبہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ریاستی آرگنائزنگ سکریٹری جاوید ذکریا نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ای میل کے ذریعے مکتوب ارسال کرتے ہوئے کیا ہے۔ اپنے مکتوب میں جاوید ذکریا نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ جیسے حساس معاملے پر آگے بڑھنے سے قبل مسلم علمائے دین، مختلف سماجوں کے نمائندوں، قانونی ماہرین اور سماجی تنظیموں سے تفصیلی تبادلۂ خیال ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آن لائن سوالنامے میں 31 سوالات کے جوابات اور مزید چھ سوالات کے اختیارات منتخب کرنے کی پیچیدہ کارروائی کے باعث عام شہریوں کو اپنی رائے درج کرانے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوالنامے کو آسان بنایا جائے اور آن لائن طریقۂ کار کے ساتھ تحریری طور پر بھی اعتراضات اور تجاویز پیش کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ یکساں سیول کوڈ کا مسودہ عوام کے لیے جاری کرکے اس کے مطالعے اور تجاویز پیش کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ جاوید ذکریا نے زور دیا کہ اس معاملے میں تمام سماجوں کی نمائندگی، مذہبی آزادی اور دستور ہند کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے اور کسی بھی فیصلے سے قبل تمام متعلقہ طبقات کو اعتماد میں لیا جائے۔