اکولہ، مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مبینہ معاملے میں رکنِ اسمبلی سنگرام جگتاپ کو عدالتی نوٹس جاوید زکریا کی نجی فوجداری شکایت پر عدالت کا اہم قدم؛ آئندہ سماعت 27 نومبر کو مقرر
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 28, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) مذہبی جذبات مجروح کرنے اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان مبینہ طور پر منافرت پھیلانے سے متعلق ایک معاملے میں مہاراشٹر کے رکنِ اسمبلی سنگرام ارون کمار جگتاپ کے خلاف اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اکولہ کی جوائنٹ جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) عدالت نے جاوید زکریا کی جانب سے دائر نجی فوجداری شکایت پر 27 اکتوبر 2026 کو سنگرام جگتاپ کو نوٹس جاری کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ معاملے کی آئندہ سماعت 27 نومبر 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ 10 اکتوبر 2025 کو سولہاپور میں منعقدہ ہندو آکروش مورچہ کی ایک تقریب میں سنگرام جگتاپ کی جانب سے دیے گئے مبینہ بیانات سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ جاوید زکریا کے مطابق، مذکورہ تقریب میں جگتاپ نے مبینہ طور پر اپیل کی تھی کہ دیوالی کے موقع پر ہندو صرف ہندو دکانداروں سے خریداری کریں، تاکہ منافع ہندوؤں ہی کو حاصل ہو۔ شکایت میں ایک اور مبینہ بیان کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے مطابق جگتاپ نے کہا تھا کہ ہندوؤں اور مندروں پر ہونے والے حملے مساجد سے کیے جاتے ہیں۔ جاوید زکریا نے ان مبینہ بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان سے مذہبی جذبات مجروح ہونے اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان منافرت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، یہ الزامات ہیں اور ان پر عدالتی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ اس معاملے میں جاوید زکریا نے 11 اکتوبر 2025 کو اکولہ کے رام داس پیتھ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ ان کے مطابق، پولیس کی جانب سے مطلوبہ کارروائی نہ ہونے کے باعث انہوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے نجی فوجداری شکایت دائر کی۔ اس کے بعد معاملہ عدالتی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے سینئر فوجداری وکیل نجیب شیخ نے عدالت میں پیروی کی۔ اطلاعات کے مطابق، شکایت کنندہ کی جانب سے حتمی بحث مکمل ہونے کے بعد عدالتی حکم کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ پہلے 23 جولائی کو حکم آنے کا امکان تھا، تاہم معاملہ دوسری عدالت میں منتقل ہونے کے باعث اس روز کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ اب 27 اکتوبر کو سنگرام جگتاپ کو نوٹس جاری کرنے کے احکامات کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کے بعد اب 27 نومبر 2026 کو ہونے والی آئندہ سماعت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس موقع پر عدالت کی جانب سے مزید کیا ہدایات دی جاتی ہیں، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ رکنِ اسمبلی کی ذاتی حاضری ضروری ہوگی یا نہیں، اس کا انحصار عدالتی حکم اور متعلقہ قانونی کارروائی پر ہوگا۔ مذہبی بیانات، اظہارِ رائے کی ذمہ داری اور قانونی جواب دہی کے حوالے سے یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم، نوٹس جاری ہونے کو الزامات کی توثیق یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔