ڈاکٹر ناصر الدین انصار ’ناقدِ برار ایوارڈ‘ سے سرفراز بزمِ ادب و ثقافت کے زیرِ اہتمام عظیم الشان تہنیتی تقریب
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 13, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) اردو ادب و تنقید کے معروف نام ڈاکٹر ناصر الدین انصار کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کے اعتراف میں 11 اکتوبر 2026ء کو نور فنکشن ہال، آکولہ میں بزمِ ادب و ثقافت کی جانب سے ایک عظیم الشان تہنیتی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر موصوف کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں باوقار ’ناقدِ برار ایوارڈ‘ سے سرفراز کیا گیا۔ تقریب میں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور کرناٹک سے تعلق رکھنے والے نامور ادبا، شعرا اور ادب نواز شخصیات سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت مدھیہ پردیش سے تشریف لائے جمیل اصغر نے فرمائی، جبکہ فصیح اللہ نقیب ، مسعود خان برہانپوری ، محمد رفیق شاد اور دیگر معزز شخصیات مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئیں۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض التمش شمس نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ ڈاکٹر ناصر الدین انصار اردو ادب کے ایک معتبر ادیب و نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ شعبۂ تعلیم میں بھی نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد بی ای او (بلاک ایجوکیشن آفیسر) کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اب تک چھ کتابیں تصنیف کر چکے ہیں، جنہیں مہاراشٹر اور اترپردیش کی ساہتیہ اکادمیوں کی جانب سے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ موصوف بال بھارتی، پونے کی اردو اور فارسی لسانی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ تدریسی تجربے، تحقیقی بصیرت اور تنقیدی شعور کے امتزاج نے ان کی ادبی شناخت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ’ناقدِ برار ایوارڈ‘ سے ان کی پذیرائی ادبی حلقوں میں ان کی خدمات کے اعتراف کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس پُروقار تقریب میں جسٹس منظور ندیم، وفا اکوٹوی، شعور آشنا برہانپوری ، نعیم فراز ، محب الرحمن وفا ، عرفان ظفر ، انس نبیل ، ضمیر احمد ضمیر ، فاروق رضا ، داور نوید ، اظہار راشد ، حمید شارق ، ڈاکٹر مشیر احمد ، جناب شہزاد اکولوی ، سلیم دریاپوری ، عرفان انجم اور معین گوہر سمیت متعدد معروف ادبا و شعرا موجود تھے۔ تقریب میں ڈاکٹر ناصر الدین انصار کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مختلف علاقوں سے اہلِ قلم کی بڑی تعداد میں شرکت نے اس ادبی اجتماع کو بین العلاقائی اہمیت عطا کی۔ یہ تقریب نہ صرف ایک ممتاز نقاد کی خدمات کے اعتراف کا ذریعہ بنی بلکہ اردو ادب سے وابستہ شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ادبی روابط کو فروغ دینے کا بھی اہم موقع ثابت ہوئی۔