شہرِ عزیز مالیگاؤں میں تعلیم و تعلم، درس و تدریس،مسجد و مدرسہ ،صنعت و حرفت کے ساتھ سماج و معاشرت کے شعبے میں اپنی مخلصانہ موجودگی کا اظہار کرنے والے خانوادوں میں ہمدانی اصغر سیٹھ اور حافظ عبدالخالق ڈائمنڈ والے کا بھی شمار ہوتا ہے _
متذکرہ شعبوں میں ماضی تا حال اِن کی کارگزاریاں اظہر من الشمس ہیں _ہمدانی ریحان احمد انیس احمد ہیڈ ماسٹر دی مالیگاؤں گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کا تعلق اِن دو خاندانوں سے ہے _اول الذکر آپ کا ددھیال ہے اور ثانی الذکر ننھیال ہے _خاندانی رواداری، شرافت، محبت، خدمت، دینی و مذہبی تعلق اور تبلیغِ علم کی صفاتِ حسنہ آپ نے وراثت میں پائی ہے _
گزشتہ پینتیس سالوں سے (20 ستمبر 1989 تا 31 جولائی 2024 ) انجمن معین الطلباء کے زیرِ انصرام جاری اداروں میں سائنس مضمون کی احسن تدریس (اسسٹنٹ ٹیچر، دی مالیگاؤں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج) اور بحیثیت ہیڈ ماسٹر دی مالیگاؤں گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج مثالی منتظم کے اپنی منفرد شناخت قائم کرکے مورخہ 31 جولائی 2024 کو سرکاری ذمہ داریوں اور منصَبِ تدریس سے سبکدوش ہورہے ہیں _اِس موقع پر روایاتِ احسن کی پاسداری کرتے ہوئے "تقریبِ الوداعی" کا دعوت نامہ موصول ہوا تو یادوں کی کہکشاں جھلمل جھلمل کرنے لگی اور بے ساختہ ہمدانی ریحان سر کی شادی کا سہرا "تفسیر" سے (از مرحوم حسَن دانش) یہ شعر یاد آگیا کہ
نرم لہجے کی لطافت سے یہ ثابت ہے کہ دل
سایہءِ شاخِ گُلِ ریحان کا بالیدہ ہے
ہمدانی ریحان سر اسمِ بامسمی ہیں _گھر، اسکول، مدرسہ، دوستوں کی محفل، خاندانی تقریب، طلبہ، رشتہ داروں کے مسائل کے حل کی نشستیں ، تعلیمی تقاریب ہر جگہ اپنی تیز مہَک (تعلیم، تجربہ، تدبر اور معاملہ فہمی) سے ماحول کو سازگار کرتے رہے ہیں _اِن کی اٹھاون سالہ زندگی اس شعر کے مصداق رہی ہے
لے کر جنونِ شوق چلا ہے کدھر مجھے
مُڑ مُڑ کے دیکھتی ہے ہر اک رہگزر مجھے
ابتدائی تعلیم میونسپل اردو پرائمری اسکول (چونا بھٹی) سے حاصل کی بعدازاں سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری کی تعلیم انجمن معین الطلباء کے زیرِ انصرام جاری مالیگاؤں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج سے مکمل کی جس کے قیام میں اِن کے خانوادے کے بزرگوں کی بھی معاونت اور تَگ و دَو شامل ہے _ تخلیقی ذہن اور سائنسی فکر و نظر نے سائنس سے رشتہ مضبوط رکھا _
ایم ایس جی کالج مالیگاؤں کیمپ سے سائنس میں گریجویشن (بی ایس سی) کیا اور درس و تدریس سے وابستگی و فنِ تدریس میں مہارت کے لیے مولانا آزاد کالج آف ایجوکیشن اورنگ آباد سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی _
اپنی قابلیت اور صلاحیت کے بَل پر مادرِ علمی میں ہی درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے لیے (ستمبر 1989 میں) منتخب ہوئے تب سے اَب تک (جولائی 2024) کی کتابِ زندگی لطف اور مقصد سے بھرپور رہی ہے _ حسن دانش کا یہ شعر
تم بھی یارو گر وفا کا راستہ اپناؤ گے
اک مقامِ خاص حاصل ہوگا عزت پاؤگے
ان کے لیے مشعل راہ بن گیا _ اول دن سے تدریسی ذمہ داریوں کی احسن ادائیگی کے ساتھ کچھ نیا اور بہتر کرنے کا سودا سمایا رہا _اسکول، شہر،ضلع، ریاست سے آگے بڑھ کر آپ نے علی گڈھ یونیورسٹی اور ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن، دہلی (HRDF_ DELHI) تک تعلیمی و تدریسی تربیت (ٹریننگ ورکشاپس) کے لیے گئے _ماہرینِ علم و فن کے تجربات سے اکتساب کیا اور آموزشی ماحصل کو اپنی تدریسی مہارت سے آشکارا کیا _
زندگی میں اک ذرا سے حوصلے کی بات ہے
آسماں سے چاند تارے توڑ کر لے آؤ گے
درس و تدریس میں تختہءِ سیاہ کی تحریر (Blackboard writing) استاد کا آئینہ ہوتی ہے _ ریحان سر کو اس کا احساس رہا _ آپ نے تدریسی زندگی کے اوائل میں ہی خوش خط تحریر کے لیے دوسالہ خوشخطی کا کورس (1990 _ 1991) مکمل کیا _تدریس میں قدر پیمائی (امتحان) کی افادیت کے پیشِ نظر سوالیہ پرچے کی ٹریننگ (1991) خوش دلی سے حاصل کی _
سائنس اور ریاضی طلبہ کے لیے مشکل معلوم ہوتے ہیں _ریاضی کی تدریس کو آسان اور دلچسپ بنانے کے لیے آپ نے خصوصی طور پر اوریگیمی اور ریاضی کی ٹریننگ (1997) حاصل کی اور اپنی تدریس کو شعوری طور پر دلچسپ بنانے کی کامیاب کوشش کی _صدی کے اختتام سے قبل سائنس اور ٹیکنالوجی کا شہرہ عام ہوچکا تھا _
کمپیوٹر کی آمد اور روزانہ زندگی میں اس کا استعمال جاری ہوچکا تھا _ ریحان سر نے اسے سیکھنے کا عزم کیا اور ہندوستان کی مشہور عصری درس گاہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں کمپیوٹر کی بیسک ٹریننگ ( 1995)کے لیے گئے بعدازاں ڈپلومہ ان کمپیوٹر کا کورس (2002) بھی مکمل کرکے یہ رجحان عام کیا کہ مدرس کو اپنی تدریس بہتر کرنے کے لیے مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے _
تدریسی عمل موثر اور باضابطہ ہو اس کے لیے آپ نے اقدار کی تعلیم کی ٹریننگ (1997)، نویں اور دسویں جماعت کا نیا نصاب (1999)اور کوڈ آف پروفیشنل ایتھیکس (2011)کی تربیت حاصل کرکے پیشہ ورانہ ذمہ
داریوں سے آگہی حاصل کی _
مہاراشٹر کے مشہور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر مبارک کاپڑی صاحب کے مبارک اقوال میں درج قول "زندگی اتنی ارزاں نہیں کہ اُسے اگر یا مگر کی نذر کردی جائے" ریحان سر نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ذمہ داریوں کے تئیں کبھی بھی اگر یا مگر کے شکار نہیں ہوئے _ آفس بیئررس اور انجمن معین الطلباء کے کار پردازان نے جب اور جو ذمہ داریاں تفویض کی اسے خندہ پیشانی سے قبول کیا اور سنجیدگی اور کامیابی سے اسے پایہءِ تکمیل تک پہنچایا _
جب آٹھویں جماعت اور نویں جماعت کے طلبہ کے لیے ایم سی سی کی ٹریننگ لازمی قرار دی گئی تو ہمدانی سر نے سائنس ٹیچر ہونے کے باوجود ایم سی سی کی ٹریننگ (1997) میں حاصل کی _اس کی معلومات کو عام فہم کرنے، طلبہ کو ذہن نشین کرانے اور اس کے امتحانی عمل آسان کرنے کے لیے آپ نے پرائیویٹ پبلیکیشنز کے توسط سے اس کی بہترین کتاب اردو زبان میں ترتیب دی اور اس مبارک قول پر مہر ثبت کردی کہ "طلبہ کی زندگیوں کے چراغ میں تیل بن کر جلنے کا نام استاد ہے"
درس و تدریس، تعلیم و تربیت کے ساتھ دیگر سرگرمیوں میں شمولیت بڑا امتحان ہوتا ہے _ریحان ہمدانی سر نے اِس مشکل امتحان کو بھی اپنے حُسنِ اخلاق، تدبر اور ٹائم مینجمنٹ سے آسان کرلیا _ایم سی سی کی تربیت کے دوران برادران وطن کے اساتذہ سے سناشائی ہوئی، ہم جلیسی کا موقع ملا، غیر رسمی ملاقاتوں اور گفتگو سے تعلقات استوار ہوئے تو موقع محل سے قومی یکجہتی کے لیے فضاسازگار کرنے میں منہمک ہوئے اِس ضمن میں آپ کو کئ بار قومی ایکتا منچ، پرانت آفیسر اور دیگر سرکاری عہدیداران کی جانب سے توصیفی سند اور سرٹیفیکیٹ حاصل ہوئے _ طبی بیداری کے پیشِ نظر ایڈز اور ٹی بی جیسی مہلک اور متعدی بیماریوں سے تحفظ، بیداری اور احتیاط کے لیے بیداری ریلی اور ٹریننگ، پروگرام میں فعال شرکت کی _یقیناً...
اہلِ دِل ہی کامراں ہیں رہگزارِ شوق میں
ورنہ یہ رستہ نہایت مشکل و پیچیدہ ہے
کامیابی خلوص و محنت کا ثمرہ ہوتی ہے _
کامیابی کی خواہش کو حوصلہ افزائی، تہنیت اور سپاس گزاری مہمیز عطا کرتی ہے _آپ کی پینتیس سالہ سرگرم عملی زندگی میں کئی اہم موڑ آئے جب انعام و اعزاز، تہنیت و سپاس ناموں اور ترقی نے آپ کے حوصلوں کو بلند کیا، کام کرنے کی امنگ کو بڑھایا، احساس ذمہ داریوں کے تئیں فکرمند کیا _ آپ لائنس کلب آف مالیگاؤں کے "مثالی مدرس ایوارڈ" (2002)،انا بھاؤ ساٹھے دلت محاذ کے "صلاحیت یافتہ نوجوان ایوارڈ" (2004) ،ضلعی سطح کا سائنس نمائش کے لیے "انسپائرڈ ایوارڈ"(2013) ،مالیگاؤں شہر اے ایس پی کی جانب سے "قومی ایکتا ایوارڈ" (2003)،انجمن معین الطلباء کی جانب سے معیاری و مثالی کارکردگی کے ضمن میں مسلسل دوسال توصیفی سند (2018_19 اور 2019_20) نے آپ کے کاموں کے معیار کو بلند اور رفتار کو تیز کیا _
آپ نے پیشہ ورانہ ترقی کے لیے خصوصی طور پر یشونت راؤ چوہان مکت ودیا پیٹھ ناشک سے فاصلاتی طرز پر ڈی ایس ایم (ڈپلومہ ان اسکول مینجمنٹ) کی ڈگری حاصل کی _ درس و تدریس میں ذمہ دارانہ کارکردگی اور حُسنِ انتظام (ایڈمنسٹریشن) میں دلچسپی اور معلومات کی بناء پر انجمن معین الطلباء کے کارپردازان نے اسسٹنٹ ٹیچر سے ترقی دے کر سپروائزر (2014 _2019) ، اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر ( 2019 سے 2021 ) اور پھر ہیڈ ماسٹر(2021 سے 2024) کا عہدہ جلیلہ تفویض کرکے ان کی تدریسی و انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کیا _
آج درس و تدریس، تعلیم و تربیت کے شعبے کی متحرک و فعال مثالی شخصیت عمر طبعی کے 58 برس مکمل کرکے سبکدوش ہورہے ہیں _اس موقع پر ہم ان کی جملہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حرفِ دعا پیش کرتے ہیں کہ
قائم رہے آسودگی شوق کا عالم
تاعمر مقدر میں ہوں پُرکیف فضائیں


