کھام گاؤں (واثق نوید) کولہاپور کے غزاپور اور وشال گڑھ مسجد میں شرپسند عناصر کی دہشت گردی کے خلاف پورے ملک بالخصوص مہاراشٹر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔
جس کا اظہار مختلف شہروں اور دیہاتوں کے مسلمان مذمت کرتے ہوئے حکام کو میمورنڈم روانہ کرتے ہوئے ظالموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ اسی ضمن میں بلڈھانہ ضلع کے جلگاؤں کے بعد کھام گاؤں تحصیل کے لاکھنواڑہ اور کھام گاؤں شہر کے مسلمانوں نےبھی وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کو میمورنڈم روانہ کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔
اور شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ یوم عاشورہ کے موقع پر 17 جولائی کو کھام گاؤں تحصیل کے ایک قصبے لاکھنواڑہ کے غیور و حمیت پسند مسلم نوجوانوں نے ہیورکھیڑ پولس اسٹیشن کے تھانیدار چودھری صاحب کے معرفت اعلی حکام کو میمورنڈم روانہ کیا ۔ایڈوکیٹ شہزاد اللہ خان کی قیادت میں دیئے گئے میمورنڈم دینے کے موقع پر حافظ ادریس صاحب ، ہدایت خان ، ثاقب خان ، شیخ دانش ، محمد ذالنورین ، قاسم علی ، مدثر خان عبید خان ، ریحان خان ، فرحان خان ، محمد رئیس ، کفایت خان ، ساجد خان ، سعد احمد، حمّاد اللّٰہ ، صادق خان ، سرفراز خان ، زاہد خان ، عظیم ، عدنان ثانی و گاؤں کے نوجوان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔
جبکہ کھام گاؤں شہر میں بھی 18 جولائی کو شہر ذمہ داران نے مقامی تحصیل دار کے معرفتِ میمورنڈم وزیر اعلیٰ مہاراشٹر ایکناتھ جی شندے کو روانہ کیا ۔ دونون میمورنڈم میں بتایا گیا کہ کولہاپور ضلع کے وشال گڑھ ، غزاپور میں بے گناہ مسلمانوں اور مسجد کی بے حرمتی قرآن پاک کی توہین سے تمام مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ،
بلا اجازت سنبھاجی راجے کی قیادت میں نکلنے والے مورچے میں شامل تمام شر ہسند ، غنڈوں پر سخت سے سخت کاروائی کی جائے ۔ کھام گاؤں میں میمورنڈم دیتے وقت مفتی صدیق اشاعتی ، مولوی انیس اشرفی ، ضمیر رضا ، انیس جمعدار ، عارف پہلوان ، پرویز پٹھان ، نعیم صاحب ، عبد الرشید ممبر ، انیس دکاندار ، دادو بیگ سمت کئے افراد موجود تھے






.jpg)