جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کے زیر اہتمام اقراء ایچ جے تھیم کالج مہرون جلگاؤں کی بزم اردو ادب کی جانب سے کالج میں تعزیتی نشست بیاد مرحوم عاجز بياولی منعقد ہوئی صدارت عبدالکریم سالار نے کی ۔
اس موقع پر صدر موصوف نے علاقہ خاندیش کی اردو زبان و ادب کی خدمات کا اعادہ کرتے ہوئے مرحوم احمد عاجز بیاولی کی علمی أدبی دینی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک سنجیدہ فکر و شخصیت کے حامل تھے موضوع اور صنف خواہ جو بھی ہو عاجز بیاولی نے اسے مزہب و دلکش انداز میں ہی پیش کیا محفل کا وقار کبھی گرنے نہیں دیا ان کی کمی پر ہونا مشکل ہے ان کے نام کو زندہ رکھنے اور مقامی قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کے لۓ جلد ہی احمد عاجز بیاولی سالانہ ایوارڈ جاری کرنے کا بھی موصوف نے اعلان کیا ۔
اس موقع پر ، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خان، مستقیم باغبان، ڈاکٹر حفیظ شیخ ،پروفیسر ڈاکٹر امین قاضی، پروفیسر ڈاکٹر عرفان بشیر ، پروفیسر ڈاکٹر سدا شیو ڈا پکے، فرحان شیخ، عبدالعزیز، کامل شیخ ، عروج احمد تھے پروفیسر ڈاکٹر تنویر خان نے تلاوت کلام پاک سے نششت کا آغاذ کیا ۔بعد ازاں مرحوم کے متعلق سامعین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر وقار نے کہا کہ عاجز بیاولی ایک معتبر شاعر اور اچھے انسان تھے۔ جناب ڈاکٹر ہارون بشیر نے کہا کہ عاجز بیاولی صاحب معیاری اردو بولتے اور ان کا کلام بھی نہایت معیاری ہوتا۔ ان کی سوچ وسیع تھی انہوں نے مفلسی میں بھی اپنے بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کی۔ یوسف پٹیل نے کہا کہ وہ بہترین شاعر تھے۔ انہوں نے ہر کسی کی عزت کی۔ اور برموقع اشعار کہنا ان کی خصوصیت تھی۔پرنسپل ڈاکٹر چاند خان نے بھی کہا کہ عارف اعظمی صاحب کے توسط سے ان سے ملاقاتیں ہوتی تھی ۔وہ بہت ملنسار انسان تھے۔
ڈاکٹر شفیق ناظم نے کہا کہ عاجز بياولی صاحب کی زبان نہایت ہی فصیح تھی۔ ان کے کلام میں نزاکت تخیل دیکھتے بنتا تھا۔ وہ روایتی شاعری کے امین تھے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کا انعام مل چکا ہے اسی کے ساتھ اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعے بھی انہیں "مرحوم ذاکر عثمانی ایوارڈ" سے نوازا گیا تھا۔ ان کی کتاب " نقش پائے گما" کی اشاعت میں سوسائٹی کا کلیدی رول رہا۔ درحقیقت ان کی غیر معمولی خصوصیات کا اعتراف ہم کرتے ہیں۔ عاجز بياولی صاحب ایک عظیم شاعر تھے۔ ہم ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ مرحوم کی مغفرت کریں اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے۔ دعا پر نشست کا اختتام ہوا ۔
