ممبئی : پریس ریلیز
پڑوسی ملک پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جس طرح سے مبارک ثانی (قادیانی) کو لیکر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ملعون و مرتد فرقہ قادیانی کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے انہیں تبلیغ کرنے کی اجازت دی ہے وہ بہت ہی افسوس ناک ہے بلکہ یہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کا بدترین فیصلہ ہے
پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے جس طرح سے تمام جماعتوں کے قائدین کی طرف سے پیش کئے گئے دلائل کو نظر انداز کرتے ہوئے قادیانیوں کو تبلیغ کی خصوصی رعایت دی ہے وہ پوری امت مسلمہ کے لئے شدید کرب کا اظہار ہےچیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء ورضا اکیڈمی وجمعیت علماء اہلسنت ممبئی کی جانب بروز بدھ صبح۰۰:۱۱بجےممبئی کی ہانڈی والی مسجد۳؍میں علماء اہلسنت کی زبردست ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی۔
جس میں شہر و مضافات کے سرکردہ علماء ومشائخ نے شرکت کی مذکورہ فیصلے کے خلاف منقعدہ میٹنگ کی سرپرستی کرتے ہوئے قائد ملت خلیفہ تاج الشریعہ حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب بانی رضا اکیڈمی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ مسلمانوں کے لیے جزو ایمان ہے جس کیلئے مسلمان تن من دھن سب قربان کرکے تحفظ ختم نبوت ﷺکریگاآپ نے مزید کہا کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے قادیانیوں کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے وہ مسلم امہ کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں ہے
ہمارا تو مرنا جینا ہی تحفظ عقیدہ ختم نبوتﷺ ہےحضرت نوری صاحب نے کھل کر کہا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کا تعلق ہر مسلمان تک ہے مذکورہ فیصلے کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔
اس لئے بھارت سمیت پوری دنیا کے مسلمان کھل کر چیف جسٹس کے فیصلے کی مذمّت کرتے ہیں اور اس کو فوری طور پر واپس لینے کی مانگ کرتے ہیں حضرت سعید نوری صاحب نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺمسلمانوں کے لئے قیمتی اثاثہ ہے جس کی حفاظت و صیانت مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے اس لئے آنے والے جمعہ کو علماء کرام وائمہ مساجد صرف اور صرف عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر خطاب کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام بدترین فرقہ قادیانی کے حوالے سے باخبر ہوں
منتظم میٹنگ شہزادہ شیر ملت حضرت مولانا اعجاز احمد کشمیری خطیب و امام ہانڈی والی مسجد نے کہا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن عقیدہ ختم نبوت ﷺپر حملہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں ہوگا عقیدہ ختم نبوتﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس لئے پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا فیصلہ بدترین فیصلہ ہے ہمیں چاہیے کہ ہم قادیانیوں کے باطل نظریات سے عوام کو آگاہ کریں تاکہ قوم کو نقصان سے بچایا جاسکے شہزادہ شیر ملت مولانا اعجاز احمد کشمیری نے آگے یہ بھی کہا کہ قادیانی فرقہ دین و مذہب کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی دشمن ہے اس لئے بھارت سمیت سبھی ملکوں کو قادیانی فرقہ پر پابندی عائد کرنی چاہیے
اس موقع پر مولانا امان اللہ رضا نے کہا کہ اکستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ خود وہاں کے آئین کے منافی ہے جب پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا پھر آخر وہ کونسی طاقت ہے کہ جس کے دباؤ میں آکر چیف جسٹس آف پاکستان نے یہ قابل افسوس فیصلہ دیا ہے ہم بھارتی علماء اہلسنت پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کو فوری ان کے عہدے سے معزول کیا جائے اور اس فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے مولانا خلیل الرحمٰن نوری نے کہا کہ قادیانیت انگریز کی اولاد ہے جس نے مسلمانوں کے اندر اختلاف پیدا کرنے اور ان کے ٹھوس عقائد ونظریات کو ختم کرنے کے لئے مرزا غلام قادیانی کو پیدا کیا آج یہ خبیث فرقہ اسرائیل کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کو ان کے عقائد سے دور کررہا ہے لہٰذا مسلمانوں کو مرزا غلام قادیانی کے باطل نظریات سے بچانا ہم سب کا ایمانی تقاضہ ہے حضرت مولانا محمد عمر نظامی جمعیت علمائے اہلسنت ممبئی نے کہا کہ قادیانیت گندے نالے کا ایک کیڑا ہے جو دھیرے دھیرے رینگتے ہوئے سوراخ سے گذر کر نا خواندہ علاقوں میں داخل ہورہا ہے اور اپنے کفریہ نظریات کو غریب مسلمانوں پر مسلط کررہا ہے اس لئے اس کیڑے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش ہو آپ نے مزید کہا کہ آج یہ بدبودار کیڑا پڑوسی ملک کی آرمی میں گھس کر خود ہمارے ملک بھارت کے خلاف بھی سازش کرتا رہا ہے لہٰذا گورنمنٹ آف انڈیا اور یہاں کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی ان ملعونوں پر خاص نظر رکھنے کی ضرورت ہے حضرت مفتی ابراہیم آسی جامعہ قادریہ اشرفیہ چھوٹا سونا پور نے اپنے بیان میں کہا کہ لوگ قادیانی فرقہ کے گمراہ کن عقائد سے واقف نہیں ہیں اس لئے ائمہ مساجد جمعہ کے اجتماع میں کھل کر عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر دلائل و براہین سے مزین خطاب کریں مزید پاکستانی سپریم کورٹ کے غلط فیصلے کی پرزور مذمت بھی کریں حضرت مولانا محمد عباس رضوی نے کہا کہ پاکستان عدالت عظمیٰ نے قادیانیوں کے معاملے میں جو فیصلہ کیا ہے وہ غیر شرعی بھی ہے اور غیر آئینی بھی ہے اس لئے اس فیصلے کو ہم سرے سے خارج کرتے ہیں اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس منہوس فیصلے کو واپس لے یہ معاملہ کسی ایک ملک یا ریاست کا نہیں ہے بلکہ اربوں مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ سے جڑا ہے اگر گورنمنٹ پاکستان نے اس فیصلے کو واپس نہیں لیا تو ضرورت پڑنے پر ہم بھارت میں واقع پاکستانی سفارت خانےکا گھیراؤ بھی کریں گے میٹنگ میں مولانا صابر القادری کرلا مولانا فاروق رضوی کرلامفتی محمد عثمان اشرف شیدا اشرفی قاری محمد رئیس فاروقی حضرت قاری گلزار احمد رضوی حضرت قاری ناظم رضوی حضرت مولانا مظہر حسین علیمی مولانا اعجاز القمر علیمی مولانا قمر رضا اشرفی مولانا نظام الدین خان رضوی مولانا صادر رضا ثقافی ٹٹوالا مولانا توکل حسین چیمبور مولانا محمد عارف مولانا نوشاد احمد قاری محمد سلیمان خان رضوی قاری شہزاد احمد حاجی محمد کمال خان قادری گوونڈی برکات احمد اشرفی شفیق احمد شیخ گوونڈی ناظم خان رضوی وغیرہ موجود تھے
فقط محمد عارف رضوی سکریٹری رضا اکیڈمی ممبئی


